اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت ،وزارتِ خارجہ میں، اقتصادی سفارت کاری کے حوالے سے اہم اجلاس کا انعقادکیا گیا۔اجلا س میںسیکرٹری خارجہ سہیل محمود ،اسپیشل سیکرٹری ،رضا بشیر تارڑ اور وزارتِ خارجہ کے سینئر افسران شریک ہوئے ۔اجلاس میں ترکمانستان، آزربائیجان، کرغزستان ،تاجکستان ،ازبکستان ،سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال،مالدیپ ،برونائی میں تعینات پاکستانی سفراء بھی بذریعہ ویڈیو لنک شریک تھے۔اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کیا اور کہا جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ ہم اپنی توجہ جغرافیائی اقتصادی ترجیحات پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔مجھے توقع ہے کہ آپ دیے گئے اھداف کے حصول کیلئے “اقتصادی سفارت کاری” کو موثر انداز میں بروئے کار لائیں گے۔ میں نے ابھی چند وسط ایشیائی ممالک کا دورہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میری وسط ایشیائی ممالک کی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں بہت سود مند رہیں۔ افغانستان میں قیام امن سے، وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ، ہمارے تجارتی و اقتصادی روابط میں بہت بہتری آنے کی توقع ہے۔ہماری حکومت، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کیلئے، ایف ایم پورٹل کو مکمل طور پر فعال بنانے کیلئے کوشاں ہیں تاکہ ان شکایات کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔ اجلاس میں شریک سفراء نے اقتصادی سفارت کاری کے تحت وزارتِ خارجہ کی جانب سے دیے گئے اہداف کی تکمیل کیلئے، بروئے کار لائ گئی کاوشوں سے وزیر خارجہ کو آگاہ کیا ۔ان اہداف میں، تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری کا فروغ اور پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافے کیلئے نئ مارکیٹس تک رسائی شامل ہیں ۔وزیر خارجہ نے اقتصادی سفارت کاری کے حوالے سے، بروئے کار لائی گئی سفراء کی کاوشوں کو سراہا۔ واضح رہے کہ وزارتِ خارجہ، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں، وزیرخارجہ کی قیادت میں ، اقتصادی سفارت کاری کے طے کردہ اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہے۔
وزارتِ خارجہ میں اقتصادی سفارتکاری کے حوالے سے اہم اجلاس کا انعقاد



