ذرا سوچیے، ایک ایسی فلم جس کی شوٹنگ کروانے کے لیے پروڈیوسر کو پولیس نہیں بلکہ علاقے کے خطرناک ڈاکوؤں سے مدد لینی پڑی۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو ڈاکو کبھی راہگیروں کو لوٹتے تھے، وہی چند دن کے لیے اس فلم کی ہیروئن کے محافظ بن گئے۔ یہ کوئی فلمی کہانی نہیں، یہ پاکستان کی فلمی تاریخ کا ایک حقیقی واقعہ ہے، اور اس کے مرکز میں تھیں ایک ایسی اداکارہ جن کا اصل نام کچھ اور تھا، مگر ایک شخص نے صرف ان کے خوبصورت چہرے کی وجہ سے انہیں وہ نام دیا جس سے آج پوری دنیا انہیں یاد کرتی ہے۔ جی ہاں، بات ہو رہی ہے صبیحہ خانم کی، پاکستانی سینما کی پہلی سپر اسٹار۔
صبیحہ خانم کا اصل نام مختار بیگم تھا۔ وہ 14 اکتوبر 1934ء کو گجرات کے ایک فنکار خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محمد علی جنہیں مایا کے نام سے جانا جاتا تھا، اور ان کی والدہ اقبال بیگم جو بابل کے نام سے مشہور تھیں، دونوں اسٹیج اور فلم سے وابستہ فنکار تھے۔ یعنی اداکاری ان کے خون میں شامل تھی، یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔
لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ برصغیر میں “سسی پنوں” کی محبت کی داستان صدیوں سے مقبول رہی ہے۔ بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں اسی داستان پر ایک فلم بنائی گئی، جس کی ہدایت کاری داؤد چاند نے کی، اور اس میں سسی کا کردار نبھایا صبیحہ خانم کی والدہ، اقبال بیگم نے۔ تقسیمِ ہند کے بعد اسی موضوع پر ایک اور فلم بننا شروع ہوئی، ہدایت کار وہی تھے، مگر اس بار ہیروئن وہی پہلے والی نہیں تھیں۔ سسی کا کردار نبھانے والی اب اقبال بیگم نہیں بلکہ خود انہی کی بیٹی تھیں۔ ماں نے جو کردار برسوں پہلے نبھایا تھا، وہی کردار اب بیٹی کے حصے میں آ چکا تھا، اور یہی کردار آگے چل کر پوری فلمی صنعت کی تاریخ بدلنے والا تھا۔
صبیحہ خانم نے اپنے فنی سفر کا آغاز فلم سے نہیں بلکہ اسٹیج سے کیا۔ 1949ء میں لاہور کے مشہور سینما میجسٹک میں نصیر خلیلی نے ایک ڈرامہ پیش کیا جس کا نام تھا “بت شکن”۔ اسی ڈرامے میں صبیحہ خانم پہلی بار اسٹیج پر آئیں اور ہیروئن کا رول ادا کیا۔ یہ ڈرامہ اتنا کامیاب رہا کہ اسے دیکھنے کے لیے لاہور کے نامور اور مشہور لوگ آئے، اور انہوں نے اس ڈرامے میں کام کرنے والے اداکاروں کے نام کی تعریف کی۔ حکیم شجاع پاشا، انور کمال پاشا اور مسعود پرویز جیسے نامور لوگوں نے بھی یہ ڈرامہ دیکھا اور سراہا۔ اسی طرح مختار بیگم کے نام سے دنیا میں آنے والی بچی نے صبیحہ خانم کے نام سے شوبز کی دنیا میں قدم رکھا۔
مگر شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ نام انہیں کس نے دیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور اداکار عرفان کھوسٹ کے والد سلطان کھوسٹ، جو پاکستان بننے کے بعد ریڈیو سے وابستہ تھے، نے صبیحہ خانم کو فلموں میں متعارف کرانے میں بہت مدد کی۔ اسی دور میں وہ خود بھی پاکستانی فلموں میں اہم کردار نبھایا کرتے تھے، اور انہوں نے ہی صبیحہ خانم کے خوبصورت چہرے کی مناسبت سے ان کا نام صبیحہ خانم رکھا۔
تھوڑے عرصے مقامی تھیٹر سے وابستگی کے بعد صبیحہ نے جس فلم میں پہلی بار کام کیا اس کا نام تھا “بلی”۔ 1949ء میں بننے والی یہ فلم اس حوالے سے اہم تھی کہ اس کے مصنف سعادت حسن منٹو اور ہدایت کار مسعود پرویز تھے۔ ایسے نامور مصنف اور بے مثال ہدایت کار کے اشتراک سے بننے والی اس فلم میں بھی صبیحہ کا کردار ہیروئن کا نہیں تھا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے بڑے ناموں کے باوجود یہ فلم فلاپ ہو گئی۔
لیکن قسمت نے صبیحہ کے لیے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔ بطور ہیروئن ان کی پہلی فلم ہدایت کار ملک انعام اللہ کی “غیرت” تھی۔ اسی ہدایت کار کی دوسری فلم “پنجرہ” میں بھی صبیحہ خانم بطور ہیروئن آئیں۔ پھر ایک ایسی فلم آئی جس نے پوری صورتحال بدل دی۔ یہ فلم تھی “دو آنسو”، جو پاکستان کی پہلی کامیاب اردو فلم ثابت ہوئی۔ یہ پاکستان فلم انڈسٹری کی پہلی ایسی اردو صوتی فلم تھی جس نے ایک سینما میں مسلسل پچیس ہفتے نمائش کی اور مکمل ہاؤس فل رہی۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ فلم اتنی اہم کیوں تھی؟ اصل میں اس وقت پاکستان کی فلم انڈسٹری اپنے قدموں پر کھڑی ہونے کی جدوجہد کر رہی تھی۔ ایک طرف بھارت کی فلم انڈسٹری اپنی منڈی بنا چکی تھی، دوسری طرف دھرمیندر، دلیپ کمار، راجکپور اور اشوک کمار جیسے فنکاروں کی فلمیں سامنے آ رہی تھیں جن کے مقابلے میں پاکستانی فلمیں ناکام ہو رہی تھیں۔ ایسے میں “دو آنسو” کی کامیابی نے پاکستان کی فلم انڈسٹری کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کر دیا اور اس کا اعتماد بحال کر دیا۔ صبیحہ خانم، سنتوش کمار اور آصف جاہ اس فلم کے نئے آرٹسٹ تھے۔
“دو آنسو” کی کامیابی کے بعد صبیحہ خانم اور سنتوش کمار کی جوڑی پاکستانی فلموں کی کامیابی کی ضمانت بن گئی۔ تماشائی ان کی فلموں کا بے تابی سے انتظار کرنے لگے۔ اگرچہ اس دور میں سدھیر، نور جہاں، مینا شوری اور رانگی جیسے جوڑے بھی مقبول تھے، لیکن مقبولیت کے لحاظ سے یہ دونوں اداکار بہت آگے تھے۔ 1953ء میں سیلاب اور آغوش نام کی فلموں میں کام کیا، اور 1954ء میں دیوار، راتکی بات اور اشفاق ملک کی فلموں میں کام کیا جو کہ سب درجہ اول کی فلمیں ثابت ہوئیں۔
اسی دور میں صبیحہ خانم کی فلم “سسی” آئی، جس نے ریکارڈ توڑ بزنس کیا۔ یہ ایک گولڈن جوبلی فلم تھی۔ اس فلم کا معاوضہ صبیحہ خانم کو بام عروج تک پہنچا گیا۔ انہوں نے یہ معاوضہ چالیس ہزار روپے لیا، اور یہ معاوضہ اس دور کے اداکاروں میں سب سے زیادہ معاوضہ تھا جو پاکستان کی فلم انڈسٹری کی کسی اداکارہ نے وصول کیا تھا۔ اس فلم کے بعد صبیحہ کا شمار پاکستان کی سب سے معروف ترین اداکاراؤں میں ہونے لگا۔
“سسی” فلمسازی کے رجحانات اور روایات کو بدل کر رکھ دینے والی فلم ثابت ہوئی۔ اصل میں پچاس کی دہائی کے وسط میں پاکستان میں بھارتی فلموں کی درآمد کے خلاف فنکاروں اور فلمسازوں کی تحریک نے زور پکڑا۔ اسی احساس کے تحت مقامی موضوعات اور ماحول والی فلمیں بننا شروع ہو گئیں۔ “سسی” کئی اعتبار سے پاکستان کی یادگار فلم تھی۔ اس پر اس دور میں ساڑھے تین لاکھ روپے کی لاگت آئی، جبکہ اس سے پہلے فلمساز پچاس ساٹھ ہزار روپے سے زیادہ خرچ کرنے کا رسک نہیں لیتے تھے۔ فلم کے ہدایت کار داؤد چاند، مغل ہند کے تاریخی کردار چاند بی بی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، اسی نسبت سے وہ اپنے نام کے ساتھ چاند لکھا کرتے تھے۔ انہیں یہ اعزاز بھی ملا کہ ان کی ہدایت کاری میں ماں اور بیٹی، دونوں نے ایک ہی تاریخی کردار نبھایا۔
مگر شاید سب سے دلچسپ اور کم لوگوں کو معلوم واقعہ اس فلم کی آؤٹ ڈور شوٹنگ سے جڑا ہے۔ “سسی” کی شوٹنگ سوات کے دشوار گزار علاقوں میں کی گئی، جہاں خونخوار جنگلی ریچھوں کے غول باہر نکل آتے تھے۔ لاہور کے نزدیک ایک مصنوعی جھیل بنا کر دھوبی گھاٹ کا سیٹ لگایا گیا تھا۔ اس علاقے میں بدمعاشوں کا راج تھا۔ صبیحہ اور دیگر فنکاروں اور عملے کی حفاظت کے لیے پروڈیوسر ایم اے خان نے پولیس سے تحفظ مانگا۔ مقامی پولیس کا جواب تھا کہ ہم خطرناک ڈاکوؤں کے گروہ کا کچھ نہیں کر سکتے، آپ آئی جی پولیس سے بات کر لیں۔
یہاں سے کہانی ایک غیر متوقع موڑ لیتی ہے۔ پاکستانی فلموں کی تاریخ کے تذکرے پر مبنی کتاب “فلمی الف لیلیٰ” کے مصنف علی سفیان آفاقی کے مطابق، فلم کے پروڈیوسر نے علاقے کے تین نامی گرامی ڈاکوؤں کو اپنے ہاں مدعو کیا۔ انہیں پیشکش کی گئی کہ ایک ہفتے کے لیے اداکاروں اور فلمی یونٹ کی حفاظت کا ٹھیکہ کر لیں، اس کے عوض انہیں مناسب معاوضہ ملے گا۔ ابتدا میں انہیں لگا کہ یہ بھی کوئی فلمی مذاق ہے۔ مگر جب ایم اے خان نے انہیں سمجھایا کہ پولیس کے عدم تعاون کے بعد اس کام کے لیے ان کے سوا کوئی موزوں نہیں ہو سکتا، تو ڈاکوؤں نے بھی صبیحہ کی دلکش اداکاری کا چرچا سن رکھا تھا۔ جب انہیں لگا کہ اس طرح انہیں اپنے پسندیدہ اداکاروں کی قربت اور حفاظت کا موقع مل رہا ہے، تو انہوں نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے بلامعاوضہ یہ فرض پورا کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کر دی۔
اور پھر یہ حفاظتی حصار شوٹنگ میں مکمل ثابت ہوا۔ ان کے مدح خواہ ڈاکوؤں نے کتنی ہی بار ضرورت کی چیزیں مفت میں مہیا کیں۔ یوں ذہین پروڈیوسر نے یہ مقولہ درست ثابت کر دیا کہ لومڑی بھی لومڑی کو اپنا ہمراز بنا لیتی ہے۔ ہدایت کار انور کمال پاشا کی تقریباً تمام فلموں میں سنتوش کمار، صبیحہ خانم، آصف جاہ، علاؤالدین، اجمل، ایم اسماعیل اور شیخ اقبال وغیرہ نے کام کیا، اور یہ سبھی ان کے یونٹ کے مستقل ارکان تھے اور ان کے بغیر فلمیں نہیں بناتے تھے، سوائے چند ایک فلموں کے۔ “دو آنسو” کے بعد انور کمال پاشا نے غلام، انتقام، قاتل، سرفروش، دلا بھٹی اور انارکلی سمیت کئی کامیاب اردو اور پنجابی فلمیں صبیحہ خانم کو لے کر بنائیں اور بے مثال کامیابی سمیٹی۔
اسی دور میں جب اس وقت کا نامور ہیرو سنتوش کمار، اداکارہ صبیحہ خانم کے عشق میں گرفتار ہو گیا تھا، حالانکہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھا، مگر صبیحہ کی قربت اور اس کے حسن نے سنتوش کو اپنا گرویدہ کر دیا تھا۔ پھر ان دونوں کی محبت بھی آخر رنگ لائی اور صبیحہ خانم نے سنتوش کمار کی دوسری بیوی بن کر زندگی بھر کے لیے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اور پھر وہ ہر طرح سے اس کی پہلی بیوی کو عزت بھی دیتی رہی۔ اس سے بھی وہ محبت کرتی رہی، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ سنتوش کمار کی پہلی بیوی نے بھی صبیحہ کو خوب اپنا لیا تھا۔
صبیحہ خانم نے یکم اکتوبر 1958ء کو سنتوش کمار سے شادی کی۔ سنتوش پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کی پہلی شادی سے بچے بھی تھے۔ صبیحہ کے والد کی ابتدائی مخالفت کے بعد دونوں نے فلم حسرت کے دوران لندن میں شادی کی۔ انہوں نے 47 فلموں میں ایک ساتھ اداکاری کی، اور ان میں سے زیادہ تر میں ان کی حیثیت جوڑے کی سی تھی۔ صبیحہ اور سنتوش کمار کے ساتھ تین بچے تھے۔
فلمی اعداد و شمار کے مطابق صبیحہ نے مجموعی طور پر 202 فلموں میں کام کیا۔ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر انہوں نے پانچ نگار ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔ فلم سات لاکھ اور دیور بھابھی میں بہترین اداکارہ کا، سنگدل میں بہترین معاون اداکارہ کا، اور “اک گناہ اور سہی” میں خصوصی اداکارہ کا نگار ایوارڈ انہیں ملا۔ بطور ہیروئن فلموں سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد انہوں نے متعدد کریکٹر رول بھی کیے، خصوصاً “اک گناہ اور سہی” میں الٹرا ماڈرن لیڈی کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔
صبیحہ خانم کے بارے میں ایک بات اور مشہور تھی۔ جس طرح انڈین فلم انڈسٹری کی نامور اداکارہ مدھوبالا کی آنکھیں بولتی تھیں، اسی طرح صبیحہ خانم کی مکمل مسکراہٹ اور آنکھوں کا سحر بھی اپنی مثال آپ تھا۔ صبیحہ خانم کو سلور اسکرین کی گولڈن گرل بھی کہا جاتا تھا۔ صبیحہ خانم نے زندگی کی دھوپ چھاؤں کو بڑے قریب سے محسوس کیا، مگر اس نے کبھی زندگی کے بارے میں کوئی شکوہ نہیں کیا۔ ہاں ایک بار صبیحہ خانم نے یہ شکایت ضرور کی تھی کہ جس طرح ہندوستان کی فلم انڈسٹری میں اپنے سینئر آرٹسٹوں کی عزت کی جاتی ہے، پاکستان میں اپنے آرٹسٹوں کو وہ عزت نہیں دی جاتی، اور ان کے خیال میں پاکستان میں فلم انڈسٹری کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہے۔
سنتوش کمار نے 11 جون 1982ء کو یہ دنیا چھوڑ دی، اور ان کے بعد صبیحہ خانم بھی فلمی دنیا سے دور ہو گئیں۔ بعد میں وہ امریکا چلی گئیں اور وہیں انتقال کے بعد آسودۂ خاک ہوئیں۔ فلموں سے دور ہو جانے کے دور میں اداکارہ نے بعد ازاں ٹیلی ویژن ڈراموں میں بھی کام کیا۔ ان کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں “احساس” اور “دشت” شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ایک اچھی گلوکارہ بھی تھیں، اور ان کی آواز میں دو ملی نغمے ہم آج بھی بہت شوق سے سنتے ہیں، جن کے بول ہیں “جاگ جاگ جیوے جیوے میرا پیارا وطن” اور “سوہنی دھرتی اللہ رکھے”۔
صبیحہ خانم کی وفات 13 جون 2020ء کو 84 سال کی عمر میں ہوئی۔ وہ اپنی بیٹی جینیفر کے ساتھ امریکہ کے شہر لیزبرگ میں رہتی تھیں، اور وہ امریکہ میں ہی آسودۂ خاک ہیں، اپنے وطن سے ہزاروں میل دور، اس سرزمین سے دور جس نے انہیں سب سے پہلے سٹار کا درجہ دیا تھا۔
صبیحہ خانم صرف ایک اداکارہ نہیں تھیں، وہ اس دور کی گواہ تھیں جب پاکستان کی فلم انڈسٹری اپنے قدموں پر کھڑی ہونا سیکھ رہی تھی۔ ایک ایسی صنعت جو بھارتی فلموں کے سیلاب میں بہہ جانے کے قریب تھی، اسے “دو آنسو” اور “سسی” جیسی فلموں نے سہارا دیا، اور اس سہارے کے پیچھے ایک ایسی لڑکی کا چہرہ تھا جس کا نام کبھی مختار بیگم تھا۔ آج جب ہم پرانی فلموں کے وہ گیت سنتے ہیں، جب ہم ان کی مسکراہٹ کی تصویریں دیکھتے ہیں، تو شاید ہم صرف ایک اداکارہ کو یاد نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ اس پوری صنعت کی وہ کہانی یاد کر رہے ہوتے ہیں جو ایک نئے ملک کے ساتھ، ایک نئی شناخت کے ساتھ، خود کو دنیا کے سامنے ثابت کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھی۔ اور صبیحہ خانم اسی جدوجہد کا سب سے روشن چہرہ تھیں۔



