مصر اور چین کے بڑھتے تعاون سے ثقافتی اورعوامی روابط کو فروغ مل رہا ہے، سربراہ عظیم مصری عجائب گھر

قاہرہ (شِنہوا) مصر کے عظیم مصری عجائب گھر (جی ای ایم) کے سربراہ نے کہا ہے کہ مصر اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری سے سیاحت، آثار قدیمہ، عجائب گھروں اور ثقافتی ورثے کے شعبوں میں ثقافتی اور عوامی سطح پر روابط اور تبادلوں کو فروغ مل رہا ہے۔
عظیم مصری عجائب گھر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد غنیم نے شِنہوا کو دیئے گئے انٹرویو میں بتایا کہ چین مختلف شعبوں میں مصر کا ایک قریبی شراکت دار بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی فضائی پروازوں کے ساتھ ساتھ خیالات، ثقافت اور روایات کے بڑھتے ہوئے تبادلے کا بھی ذکر کیا۔
احمد غنیم نے بتایا کہ نومبر 2025 کے اوائل میں عجائب گھر کے افتتاح کے بعد سے چینی سیاح عظیم مصری عجائب گھر آنے والے غیر ملکی سیاحوں کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔
عظیم مصری عجائب گھر کے سربراہ کے مطابق میوزیم کے افتتاح سے جولائی کے اختتام تک 30 لاکھ سے زائد افراد نے یہاں کا دورہ کیا جن میں 60 فیصد سے زیادہ غیر ملکی سیاح تھے۔
انہوں نے عجائب گھر کو دنیا کے لئے مصر کا تحفہ اور ملک کا چوتھا اہرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ایک تہذیب کے لئے مختص دنیا کا سب سے بڑا عجائب گھر ہے ۔
عجائب گھر کی اہم ترین کششوں میں قدیم مصری بادشاہ توتن خامن کا نوادرات کا ذخیرہ شامل ہے۔ اس گیلری میں 5 ہزار سے زائد نوادرات تقریباً 7ہزار 500 مربع میٹر رقبے پر نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توتن خامن کی مقبولیت کی بڑی وجوہات میں ان کے مقبرے سے ملنے والا بڑی حد تک محفوظ نوادرات کا ذخیرہ، ان کی زندگی سے جڑے اسرار اور نوادرات کا غیر معمولی معیار شامل ہیں۔
گرینڈ مصری عجائب گھر نوادرات کی نمائش کو مزید موثر بنانے اور سیاحوں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کرتا ہے۔ غنیم نے کہا کہ یہ نمائش ماضی اور تاریخ کو حال اور مستقبل سے ایک خوبصورت انداز میں جوڑتی ہے۔
عجائب گھر میں نوادرات کے تحفظ کی سہولیات اس کی ایک اچھی مثال ہیں۔ غنیم نے بتایا کہ نوادرات کے تحفظ کے مرکز میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی سب سے بڑی اور جدید ترین لیبارٹریاں موجود ہیں۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مصر اور چین کے درمیان آثار قدیمہ کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ لکسر اور سقارہ میں مشترکہ کھدائی کے منصوبے گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی سے وسعت اختیار کر چکے ہیں۔
غنیم نے کہا کہ عظیم مصری عجائب گھر نے چین کی متعدد معروف جامعات، تحقیقی مراکز اور عجائب گھروں کے ساتھ روابط قائم کئے ہیں تاکہ تربیت، مشترکہ ورکشاپس اور صلاحیتوں میں اضافے کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کئے جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے چینی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے مختلف شعبوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور میرا یقین ہے کہ بہت جلد ایسے منصوبوں کی صورت میں یہ تعاون عملی شکل اختیار کرے گا جو دونوں ممالک کے لئے بہت اہم ہوں گے۔
انہوں نے ثقافت اور تہذیب کو مصر اور چین کے لئے “نرم طاقت” کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شامل ہیں اور ثقافت و تہذیب عوام کے درمیان گہرے روابط فروغ دینے کے بہترین ذرائع میں سے ہیں۔
مصر اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر غنیم نے مزید چینی شہریوں کو مصر اور عظیم مصری عجائب گھر کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ عجائب گھر دونوں تہذیبوں کے درمیان مماثلت اور فرق کو سمجھنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔



  تازہ ترین   
بھارت کو پاکستان میں پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی کروانے سے باز آنا ہوگا: صدر زرداری
مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں حقیقی اور دیرپا امن ممکن نہیں: وزیراعظم
خیبرپختونخوا میں فورسز کی کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 21 دہشت گرد ہلاک
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو
ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان
خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس
یوم دفاع کے موقع پر مسلح افواج کا شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت
بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح ریاستی کوششوں کا مرکز ہے: فیلڈ مارشل





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر