اسلا م آباد(نیشنل ٹائمز)سابق چیرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری نے کوٹ ہتھیال بہارہ کہوہ اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سےذاتی ملکیتی مالکان اور گھریلو خواتین کو ہراساں کرنے پر چیف کمشنر اسلام آباد کو نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خط لکھا ہے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے لکھا ہے کہ اہلیان کوٹ ہتھیال کی طرف سے قائد اعظم یونیورسٹی ضلحی انتظامیہ اور سی ڈی حکام کو حد بندی درخواست پر تینوں اداروں کے افسران کی اس تصدیق کے بعد کہ کوٹ ہتھیال بہارہ کہوہ میں بخاری ہاؤس اور ملحقہ تمام گھر قائد اعظم یونیورسٹی حدود سے باہر ہیں قائد اعظم یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے مالکان اور گھریلو خواتین کو ہراساں کرنا عدالتی فیصلوں کی بھی توہین کے مترادف ہے نیئر حسین بخاری نےچیف کمشنر کے 24 اگست کو دیے گئے پبلک نوٹس پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نوٹس میں قائداعظم یونیورسٹی کی زمین پر مبینہ غیرقانونی رہائش پذیر افراد سے زمین واگزار کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے جو سراسر ناجائز ہے نیر بخاری نے مزید تحریر کیا ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کے فیس بک پیج پر بھی دھمکی دی گئی ہے کہ غیر قانونی رہائشی اور قبضہ مافیا سے زمین واگزار کرانے کا وقت آگیا ہے،نیئر بخاری نے کہا ہے کہ فیس بک پیج پر چیئرمین سینیٹ سے منسوب دھمکی مجھے دی گئی ہے، نیئر بخاری نے خط میں مزید تحریر کیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے میرے خلاف مہم چلائی گئی اور میرے بیٹے کے نام تعمیر گھر سے مجھے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی میرے بیٹے جرار حسین بخاری کیطرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ 2019 میں دائر رٹ پٹیشن پر میرے گھر کے خلاف کسی بھی کاروائی سے روک چکی ہے نیر بخاری نے تحریر میں کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم نامے میں واضح درج ہے کہ رہائش گاہ قائد آعظم یونیورسٹی کی حدود سے باہر قائم ہے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ریونیو حکام کی ملکیتی زمین تصدیق رپورٹس کے باوجود میرے خلاف مہم شروع کی گئی ہے نیر حسین بخاری نے چیف کمشنر اسلام آباد کو لیکے گئے خط میں واضح کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے توہین عدالت کی مرتکب ہورہی ہے جنکے نزدیک ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ سروے آف پاکستان کی رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
سید نئیر حسین بخاری کا قائد اعظم یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سےذاتی ملکیتی مالکان اور گھریلو خواتین کو ہراساں کرنے پر چیف کمشنر اسلام آبادسے نوٹس لینے کا مطالبہ



