تاثرات: مظہر طفیل
ریاست کا کردار ایک ماں جیسا ہوتا ہے، جو اپنے ہر شہری کی زندگی کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے، مگر پمز ہسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں پیش آنے والا یہ دلخراش سانحہ ہمارے اجتماعی ضمیر اور ریاستی نظام کے منہ پر ایسا زوردار طمانچہ ہے، جس کی گونج ایوانِ اقتدار کی بلند و بالا دیواروں سے ٹکرا کر بھی شاید ان لوگوں کے ضمیر تک نہ پہنچ سکے، جو ہر سانحے کے بعد چند رسمی الفاظ ادا کرکے خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق متعدد نومولود بچے اس ہولناک آتشزدگی کی نذر ہوئے اور بعض معصوم جانوں کی شناخت تک ممکن نہ رہی، جبکہ ان بچوں کے والدین اپنے جگر کے ٹکڑوں کی لاشیں لینے کے لیے ہسپتال کے باہر فریاد کرتے رہے۔ یہ منظر کسی بھی زندہ اور حساس معاشرے کے لیے قیامت سے کم نہیں، مگر ہمارے ہاں قیامت بھی شاید ایک خبر بن کر رہ جاتی ہے۔ چند گھنٹوں کے لیے افسوس کے بیانات جاری ہوتے ہیں، چند آنسو بہائے جاتے ہیں، انکوائری کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے اور پھر فائلیں سرکاری الماریوں میں دفن ہو جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے حساس وارڈ میں جہاں چند لمحوں کی غفلت کئی معصوم زندگیوں کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے، وہاں حفاظتی انتظامات کہاں تھے؟ ڈیوٹی پر موجود عملہ کہاں تھا؟ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا مؤثر نظام کہاں تھا؟ آگ لگنے کی صورت میں نومولود بچوں کو فوری محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا منصوبہ کہاں تھا؟ اور سب سے بڑھ کر وہ ریاستی نگرانی کہاں تھی، جو اپنے شہریوں کی جان کی حفاظت کی ذمہ دار ہے؟ اگر کسی مہذب اور جواب دہ ریاست میں ایسی سنگین غفلت کے نتیجے میں نومولود بچوں کی جانیں چلی جائیں تو محض افسوس کافی نہیں ہوتا، وہاں ذمہ داری کا تعین ہوتا ہے، عہدے دار جواب دہ ہوتے ہیں، استعفے سامنے آتے ہیں اور ریاست اپنے شہریوں کو یہ یقین دلاتی ہے کہ انسانی جان کسی منصب، کسی سیاسی مصلحت، کسی ادارہ جاتی مفاد یا کسی طاقتور شخصیت سے کمتر نہیں، مگر پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ یہاں انسانی جان کی قیمت اکثر ایک پریس ریلیز، چند تعزیتی جملوں اور ایک روایتی انکوائری کمیٹی سے زیادہ نہیں سمجھی جاتی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا دکھ اپنی جگہ، مگر اس ملک کے ان والدین کے دکھ کا حساب کون دے گا، جنہوں نے اپنے نومولود بچوں کو زندگی کی پہلی سانسوں کے ساتھ سینے سے لگانے کے خواب دیکھے تھے اور جن کے ہاتھوں میں آج اپنے بچوں کی بے شناخت لاشوں کا انتظار ہے؟ ان ماؤں سے پوچھا جائے، جنہوں نے مہینوں اپنے وجود میں زندگی کو پال کر اس امید کے ساتھ ہسپتال کا رخ کیا تھا کہ ان کی گود آباد ہوگی، مگر واپسی پر ان کے حصے میں ماتم آگیا، تو معلوم ہوگا کہ ریاستی بے حسی کے الفاظ کتنے بے معنی اور حکمرانوں کے رسمی آنسو کتنے کھوکھلے ہوتے ہیں۔ حکومت اگر واقعی عوام کے دکھ میں شریک ہے تو اسے بیان نہیں، جواب دینا ہوگا۔ اسے بتانا ہوگا کہ حفاظتی نظام کیوں ناکام ہوا، عملہ اپنی ذمہ داری پوری کیوں نہ کرسکا، ہنگامی کارروائی میں تاخیر کیوں ہوئی، نگرانی کا نظام کہاں سو رہا تھا اور آئندہ ایسے سانحے کی روک تھام کے لیے کون سے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں صحت کا شعبہ طویل عرصے سے سیاسی ترجیحات، انتظامی نااہلی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ناقص نگرانی اور ادارہ جاتی بے حسی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں عام آدمی کو بنیادی سہولتوں کے لیے بھی ذلت آمیز انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ادویات سے لے کر طبی آلات تک، صفائی سے لے کر حفاظتی انتظامات تک اور تربیت یافتہ عملے سے لے کر ہنگامی طبی سہولتوں تک، ہر سطح پر سوالات موجود ہیں، اور اس پورے نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جو حکمران عوام کو سرکاری ہسپتالوں کی عظمت کے قصیدے سناتے ہیں، وہ خود اور ان کے خاندان جب صحت کے کسی بڑے مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں تو پاکستان کے اسی نظامِ صحت پر اعتماد کرنے کے بجائے بیرونِ ملک علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔ نوازشریف جو ہمہ وقت عوام کے دکھ درد میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، جب بھی بیمار ہوئے لندن علاج کرانے پہنچ گئے۔ بھائی، موجودہ وزیراعظم بیمار ہوئے، علاج بیرونِ ملک، بیوی بیمار ہوئی، علاج لندن، بیٹی وزیرِ اعلیٰ، علاج بیرونِ ملک۔ تو پھر ایک عام پاکستانی کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ جس نظام پر حکمران خود مکمل اعتماد نہیں کرتے، اس نظام کو بہتر بنانے کی ذمہ داری آخر کس کی ہے؟ وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی کابینہ، وفاقی وزارتِ صحت اور متعلقہ انتظامیہ کو سمجھنا ہوگا کہ حکومت صرف تقریریں کرنے، مہنگائی پر وضاحتیں دینے، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کے فیصلے کرنے اور کسی سانحے کے بعد افسوس کا اظہار کرنے کا نام نہیں۔ حکومت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے، جب ایک غریب شہری اپنا بچہ سرکاری ہسپتال میں داخل کرتا ہے اور ریاست اس بچے کی زندگی کی محافظ بن کر اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ایک نومولود بھی ریاستی نظام کی غفلت اور کمزوری کا شکار ہوکر زندہ گھر جانے کے بجائے لاش بن کر واپس آئے تو پھر ترقی، خوشحالی، اصلاحات، گڈ گورننس اور ریاستِ مدینہ جیسے تمام دعوے محض سیاسی خطابت کا سامان بن کر رہ جاتے ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں پمز کا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں رہتا، بلکہ پورے حکومتی نظام کے خلاف فردِ جرم بن جاتا ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامے میں اگر پاکستان کی گزشتہ کئی دہائیوں کی حکمرانی کا جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ نون وفاق اور پنجاب دونوں میں طویل حکمرانی کرتے چلے آ رہے ہیں، اور اگر ان کے زیرِ انتظام صحت اور تعلیم کے شعبوں کی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں تو ان سوالات سے فرار ممکن نہیں۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے حالیہ دنوں میں ملکی نظام کے تباہ حال ہونے سے متعلق دیے گئے بیان کو اسی پس منظر میں دیکھا جائے تو پمز کا سانحہ اس تلخ حقیقت کی ایک انتہائی خوفناک تصویر بن کر سامنے آتا ہے کہ اگر ایک بڑے وفاقی دارالحکومت کے بڑے سرکاری ہسپتال میں نومولود بچے محفوظ نہیں تو پھر عام آدمی ریاست سے آخر کس تحفظ کی امید رکھے؟ وزیراعظم اور متعلقہ حکام کی جانب سے یہ کہنا کہ ہمیں افسوس ہے، ہمیں دکھ ہوا ہے اور شفاف انکوائری کرائی جائے گی، اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا انسانی جانوں کا جواب صرف انکوائری ہے؟ کیا ہر سانحے کے بعد ایک کمیٹی بنا دینا ہی حکومت کی آخری ذمہ داری ہے؟ کیا اگر انہی طاقتور لوگوں کے اپنے بچے اس وارڈ میں موجود ہوتے اور اسی طرح جل کر موت کا شکار ہوتے اور ان کی شناخت تک ممکن نہ ہوتی تو کیا تب بھی ریاست کا ردعمل صرف ایک بیان اور ایک انکوائری کمیٹی تک محدود رہتا؟ یہی وہ سوال ہے جو آج حکمرانوں کے دروازے پر دستک نہیں بلکہ ضرب لگا رہا ہے، اور اس سوال کا جواب دینا ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف اگر واقعی اس سانحے پر دکھ محسوس کرتے ہیں تو اس دکھ کو رسمی بیان کی قبر میں دفن کرنے کے بجائے عملی احتساب میں تبدیل کریں، اور یہ احتساب انہیں اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیے، کیونکہ ایک ایسے ملک میں جہاں عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بل، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور معاشی مشکلات کا بوجھ اٹھا رہے ہوں، وہاں اگر ریاست کا ہسپتال بھی ان سے ان کی آخری امید چھین لے تو پھر مسئلہ صرف ایک ہسپتال کا نہیں، پورے ریاستی تصور کا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں سیاست کو عوامی خدمت کے بجائے طاقت، اختیار اور مفادات کے حصول کا ذریعہ بنانے کی شکایات مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔ حکمران خاندانوں کے کاروباری مفادات سیاسی طاقت کے ساتھ جڑتے دکھائی دیں تو عام شہری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ اقتدار عوام کی خدمت کے لیے ہے یا اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے؟ اگر حکمران اپنے لیے بہترین علاج بیرونِ ملک تلاش کریں، اپنے خاندانوں کے لیے بہترین سہولتیں حاصل کریں اور عام پاکستانی کو ایسے سرکاری ہسپتالوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں جہاں نومولود بچوں کی جان بھی محفوظ نہ ہو تو یہ طرزِ حکمرانی صرف ناانصافی نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کو ایسے سیاستدانوں کی ضرورت نہیں، جو اقتدار کو خاندانی وراثت، کاروباری مفادات اور ذاتی تحفظ کا حصار سمجھیں۔ پاکستان کو ایسے عوامی نمائندوں کی ضرورت ہے جو عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، جن کے فیصلوں کا احتساب ہوسکے، جن کے لیے قانون اور ذمہ داری کا معیار وہی ہو جو ایک عام شہری کے لیے ہے اور جنہیں یہ احساس ہو کہ اقتدار تاج نہیں، امانت ہے۔ پمز کا سانحہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کی جان و مال، بنیادی سہولتوں اور عزتِ نفس کی حفاظت میں مسلسل ناکام ہورہا ہے تو پھر ملک میں نئے انتظامی اور حکمرانی کے ماڈلز پر سنجیدہ بحث کیوں نہ ہو؟ اختیارات کو چند مراکز میں مرتکز رکھنے کے بجائے انہیں جواب دہ اور مؤثر مقامی و علاقائی اداروں تک منتقل کیوں نہ کیا جائے اور ایسے انتظامی یونٹس کیوں نہ بنائے جائیں جہاں عوام اپنے نمائندوں اور افسران کا براہِ راست احتساب کرسکیں؟ گڈ گورننس صرف نعرے سے پیدا نہیں ہوتی، اس کے لیے طاقت کا توازن عوام کے حق میں منتقل کرنا پڑتا ہے، اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرنا پڑتا ہے، نااہلی کو سزا دینا پڑتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ اصول نافذ کرنا پڑتا ہے کہ کسی طاقتور شخص کا منصب کسی غریب کے بچے کی جان سے بڑا نہیں ہے۔ پمز میں جلنے والے یہ نومولود بچے صرف چند خاندانوں کے چراغ نہیں تھے، وہ اس ریاست کی امانت تھے۔ ان کی موت پر صرف والدین نہیں، پورے پاکستان کا ضمیر سوگوار ہونا چاہیے، اور اگر اس سانحے کے بعد بھی اقتدار کے ایوانوں میں صرف رسمی آنسو بہائے گئے اور پھر سب کچھ معمول پر آگیا تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے ان بچوں کو صرف آگ میں نہیں کھویا، بلکہ ہم نے اپنے اجتماعی ضمیر کا ایک اور حصہ بھی اسی آگ میں جلا دیا ہے۔ آج ان معصوم بچوں کے والدین کو صرف تعزیت نہیں، انصاف چاہیے۔ انہیں پھولوں کے گلدستے نہیں، جواب چاہیے۔ انہیں پریس ریلیز نہیں، ذمہ داروں کے نام چاہیے۔ انہیں کمیٹی نہیں، نتیجہ چاہیے، اور انہیں یہ یقین چاہیے کہ ان کے بچوں کی موت بے معنی نہیں ہوئی۔ وزیراعظم صاحب، اگر واقعی آپ کو دکھ ہوا ہے تو اس دکھ کو اپنے الفاظ تک محدود نہ رکھیں۔ آئیں، آگے بڑھیں، نہ صرف اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں بلکہ کابینہ میں وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی سیکرٹریِ صحت سمیت پمز کی تمام انتظامیہ سے بھی ازخود مستعفی ہونے کی درخواست کریں، کیونکہ آپ اور آپ کی کابینہ ہی حقیقت میں ان معصوم کمسن بچوں کی موت کی ذمہ دار ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں ریاست کا اصل وقار اس کے محلات، اس کی شاہراہوں، اس کے ایوانوں یا اس کے حکمرانوں کی تقریروں میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہوتا ہے کہ اس کی ایک ماں اپنے نومولود بچے کو سرکاری ہسپتال میں داخل کرتے وقت کتنی محفوظ محسوس کرتی ہے، اور اگر اس ماں کو اپنی گود آباد ہونے کی امید کے بجائے اپنے بچے کی جلی ہوئی بے شناخت لاش لینے کے لیے دروازوں پر فریاد کرنا پڑے تو پھر یہ صرف ایک ہسپتال کی ناکامی نہیں، بلکہ پوری ریاست کے احساسِ ذمہ داری پر ایک ایسا سوال ہے جس سے نہ حکومت بھاگ سکتی ہے، نہ سیاستدان، نہ افسر شاہی اور نہ وہ پورا نظام جو برسوں سے عوام کے نام پر اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے۔



