لاہور (نیشنل ٹائمز) ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا ہے کہ غیرملکی خواتین کا بیان موجود ہے کہ پنجاب پولیس نے ان کو بازیاب کروایا،مرکزی ملزم ’’باس‘‘ سمیت 8ملزموں کو گرفتار کرلیاگیا۔پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے یہ دعوے درست نہیں کہ غیرملکی خواتین خود باہر نکل آئیں، 26 جون کو دونوں خواتین اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچیں، 29 جون کو وہ اسلام آباد سے لاہور آئیں، جبکہ یکم جولائی کو سیف سٹی کو ان کے اغوا سے متعلق کال موصول ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے کارروائی شروع کر دی۔ لڑکی کی جانب سے اپنے والد کو بھیجی گئی تصویر کے ذریعے گاڑی کا نمبر ٹریس کیا گیا، جس کی مدد سے ملزموں تک رسائی حاصل ہوئی۔ گاڑی کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا۔
مرکزی ملزم ’’باس‘‘ کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے اور اس کے خلاف 10 مقدمات درج ہیں۔ رضا ڈار کے علاوہ کسی بھی ملزم کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں۔ خواتین کی بازیابی کیلئے سرگودھا سمیت مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے ۔ دورانِ تفتیش معلوم ہوا کہ ملزموں کا تعلق سرگودھا اور دیگر علاقوں سے ہے ۔ گاڑی کی لوکیشن کی مدد سے رضا ڈار کو ٹریس کیا گیا۔ ایک گھر پر چھاپے کے دوران اہلِ خانہ نے بتایا کہ وہ نائب وزیراعظم کے رشتہ دار ہیں، جس کے باعث بعض اہم شواہد سامنے آئے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ کیس کی مکمل میرٹ پر تفتیش کی جائے ۔ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ جب پولیس ملزموں کے قریب پہنچ گئی تو رضا ڈار نے خواتین سے کہا کہ ان کے پیسے آ گئے ہیں اور وہ انہیں ایئرپورٹ چھوڑ دیتا ہے ۔ ایئرپورٹ کے قریب گاڑی حادثے کا شکار ہوئی تو دونوں خواتین گاڑی سے نکل کر بھاگیں اور ایک دکان میں پناہ لے لی۔ 2 جولائی کو ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا۔
کیس کے مرکزی کردار ’’باس‘‘ سمیت تمام ملزم زیر حراست ہیں۔ خواتین پولیس افسروں نے غیرملکی خواتین کو میڈیکل کرانے پر آمادہ کیا، تاہم وہ صبح 5 بجے اپنے ملک واپس جانا چاہتی تھیں۔ تمام قانونی تقاضے مکمل کیے گئے ، میڈیکل اور بیانات مکمل ہونے کے بعد غیر ملکی خواتین کو بیرون ملک روانہ کیا گیا،دونوں خواتین پولیس کارروائی سے مطمئن ہیں ۔ فیصل کامران کے مطابق ’’باس‘‘ کا اصل نام وحید ہے ، اس کے ساتھ مسلح گن مین بھی موجود تھے ۔ اب تک 8 ملزم حراست میں لیے جا چکے ہیں۔ تمام ملزموں کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ ایس ایچ او کی غلط حرکت پر عدلیہ سے معذرت بھی کی گئی ہے ۔پریس کانفرنس کے موقع پر ایس ایس پی آپریشنز لاہور توقیر نعیم اور دیگر افسر بھی فیصل کامران کے ہمراہ موجود تھے ۔ بعد ازاں صحافیوں کے تند و تیز سوالات پر ڈی آئی جی آپریشنز پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔



