اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے آبنائے ہرمز کے بحران اور عالمی دباؤ کے باوجود ملک میں ایندھن کی فراہمی بلا تعطل برقرار رکھی اور آئل سیکٹر کے گردشی قرضے میں اضافہ نہیں ہونے دیا۔ مضبوط توانائی نظام کسی ایک ذریعے پر انحصار سے قائم نہیں رہ سکتا، اس لیے پاکستان کو روایتی ایندھن اور قابلِ تجدید توانائی کے درمیان متوازن اور معاشی طور پر قابلِ عمل منتقلی کی ضرورت ہے ۔ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر پاکستان کو 200 سے 300 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری درکار ہوگی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت پن بجلی، شمسی توانائی، ریفائنریوں کی جدیدکاری اور الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر توجہ دے رہی ہے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم سمیت اہم منصوبوں پر کام جاری ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ موجودہ بحران توانائی پالیسی پر نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمومی سبسڈیوں کے بجائے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مستحق طبقات کو ہدفی ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے ۔رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے مقامی وسائل، قابلِ تجدید توانائی اور صوبائی شمولیت پر مبنی نئی توانائی حکمتِ عملی بنانے کا مطالبہ کیا۔اٹک ریفائنری کے سی ای او عادل خٹک نے ریفائنریوں کی فوری جدیدکاری اور توانائی کی وزارت کو متحدہ قیادت کے تحت لانے کی تجویز دی۔ سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے توانائی شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت، مسابقت اور صنعتی ترقی سے ہم آہنگ اصلاحات پر زور دیا۔ سید نوید قمر نے کہا کہ پاکستان کو توانائی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مالی گنجائش، حکمرانی اصلاحات اور مقامی توانائی وسائل کے فروغ کا واضح روڈ میپ درکار ہے ۔



