تہران(نیشنل ٹائمز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے جس میں خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی گزشتہ روز غیر اعلانیہ دورے پر تہران پہنچے جہاں انہوں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔
ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں وزیر داخلہ کا یہ دوسرا دورہ تہران ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد پاکستان نے جنگ بندی اور اس کے بعد مذاکرات میں اہم ثالث کا کردار ادا کیا جسے صدر ٹرمپ، ایرانی حکام اور دیگر ممالک نے سراہا۔
انہی کوششوں اور ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے، تاہم پاکستان مسقتل جنگ بندی اور کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔
محسن نقوی کے تہران کے یہ غیر معمولی دورے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات معاہدے اور دوبارہ حملے کے درمیان بارڈر لائن پر ہیں، اگر ہمیں درست جوابات نہیں ملتے تو معاملات بہت تیزی سے آگے بڑھیں گے، ہم کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ بہت جلد یا چند دنوں میں ہو سکتا ہے، لیکن خبردار کیا کہ تہران کو سو فیصد درست جوابات دینے ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کو امریکی فریق کا نقطہ نظر موصول ہو گیا ہے اور وہ اس کا جائزہ لے رہا ہے، انہوں نے منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کے ایرانی مطالبات کو دہرایا۔



