لندن (شِنہوا) برمنگھم یونیورسٹی کے بزنس اکنامکس کے پروفیسر ڈیوڈ بیلے نے کہا ہے کہ چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیاں (ای ویز) برطانیہ کی منڈی میں تیزی سے زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہیں۔
شِنہوا کو دیئے گئے ایک تحریری انٹرویو میں بیلے نے کہا کہ چینی برانڈز واضح طور پر برطانیہ کی منڈی میں مرکزی حریفوں کی صف میں آ چکے ہیں۔
ان کا یہ بیان سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز (ایس ایم ایم ٹی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے بعد سامنے آیا۔ بیان کے مطابق 2026 کے پہلے چار ماہ میں برطانیہ کی الیکٹرک گاڑیوں کی منڈی میں چینی ساختہ ای ویز کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بی وائی ڈی اور جائیکو سمیت چینی برانڈز نے جنوری سے اپریل کے دوران برطانیہ میں 30 ہزار 480 الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں جو اس عرصے میں فروخت ہونے والی تمام ای ویز کا 17.4 فیصد بنتا ہے۔ اگر چینی کمپنیوں کی زیر ملکیت برانڈز وولوو، پولیسٹار اور لوٹس کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد 40 ہزار 222 گاڑیوں تک پہنچ جاتی ہے جو برطانیہ میں چار ماہ کے دوران فروخت ہونے والی تمام ای ویز کا 22.7 فیصد ہے۔
بیلے نے کہا کہ چینی پیداوار کنندگان اپنی برقی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی، بیٹری کی کارکردگی اور مصنوعات کی ترقی میں مضبوطی کی وجہ سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور ساتھ ہی وہ صارفین کو مارکیٹ میں زیادہ انتخاب بھی فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صارفین انہیں اب صرف سستا نہیں بلکہ قابل اعتماد بھی سمجھنے لگے ہیں۔ خاص طور پر بیٹری ٹیکنالوجی اکثر چینی ای ویز میں بہت مضبوط ہوتی ہے۔
بیلے کے مطابق برقی گاڑیاں بنانے والے چینی ادارے اب صرف قیمت کے مقابلے پر نہیں بلکہ گاڑی کی رینج، سافٹ ویئر اور ڈیزائن پر بھی مقابلہ کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں چینی ساختہ برقی گاڑیوں کی موجودگی میں اضافہ ہورہا ہے



