بیجنگ (شِنہوا) چینی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پھنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دونوں ممالک اور دنیا سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا جس کے نتیجے میں کئی نئے معاملات پر اتفاق رائے طے پا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بیان ٹرمپ کے دورہ چین کے حوالے سے دیا جو گزشتہ 9 برسوں میں کسی امریکی صدر کا چین کا یہ پہلا جبکہ نومبر 2017 کے بعد ٹرمپ کا چین کا یہ دوسرا دورہ ہے۔
ترجمان کے مطابق دونوں صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تزویراتی استحکام پر مبنی مثبت تعلقات کی نئی سوچ اپنائی جائے تاکہ آئندہ تین برسوں اور اس کے بعد بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر سمت دی جا سکے، دوطرفہ تعلقات کو مستحکم اور پائیدار بنایا جا سکے اور دنیا میں امن، خوشحالی اور ترقی کو فروغ ملے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ دونوں صدور نے باہمی خدشات کو مناسب انداز میں حل کرنے کے حوالے سے بھی اہم اتفاق رائے قائم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
دونوں صدور کے درمیان ملاقاتوں اور روابط سے باہمی سمجھ بوجھ اور اعتماد میں اضافہ ہوا، عملی تعاون کو فروغ ملا، دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچا اور دنیا کو درکار استحکام اور اعتماد میسر آیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت چین کے تین روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ جمعرات کے روز صدر شی جن پھنگ نے ٹرمپ کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب اور عشائیہ دیا، ان کے ساتھ مذاکرات کئے اور انہیں ٹیمپل آف ہیون کی سیر بھی کرائی۔
شی جن پھنگ اور ٹرمپ کے درمیان کئی نئے معاملات پر اتفاق رائے طے پا گیا، چینی وزارت خارجہ



