اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالتے وقت آئی ٹی برآمدات تقریبا 2.4 ارب ڈالر تھیں اور موجودہ مالی سال میں یہ برآمدات 4.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات سالانہ 20فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں۔قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شزہ فاطمہ نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر واحد برآمد پر مبنی انڈسٹری ہے جو فائنل ٹیکس رجیم کے تحت کام کر رہا ہے ۔
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کے ساتھ رجسٹرڈ کمپنیوں پر برآمدات پر صرف 0.5 فیصد ٹیکس لگتا ہے جبکہ غیر رجسٹرڈ ادارے ایک فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سالانہ پانچ لاکھ سے زائد نوجوانوں کو ڈیجیٹل اور ہائی ٹیک سکلز کی تربیت دے رہی ہے ۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ فائیو جی سروسز رول آئوٹ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور اسلام آباد کے بڑے علاقوں میں پائلٹ سروسز دستیاب ہیں۔ وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل نے بتا یاکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) ملک بھر میں سیلاب، کلا ئوڈ برسٹ اور دیگر قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور جدید پیشنگوئی کے نظام کااستعمال کر رہی ہے ۔ این ڈی ایم اے صوبائی اتھارٹیز کو شدید بارشوں، سیلابوں اور کلاڈ برسٹ سے متعلق بروقت الرٹس اور پیش گوئیاں بغیر کسی تاخیر کے جاری کر تی ہے ۔



