شہید ذوالفقار علی بھٹو — ایک تاریخ ساز اور طلسماتی شخصیت

تحریر: راجہ تصور عباس کامریڈ

شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک تاریخ ساز اور طلسماتی شخصیت کے مالک، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی تھے۔ پاکستان میں انہیں اقتدار کوئی اتنا طویل عرصہ نہیں ملا جتنا کہ بعد میں دیگر حکمرانوں کو ملا، لیکن انیس سو اکہتر سے انیس سو ستتر کے مختصر دور میں انہوں نے ایسے لازوال کارنامے سرانجام دیے جن کا تصور بھی مشکل تھا۔

مملکتِ خداداد پاکستان، جو چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو دنیا کے نقشے پر معرضِ وجود میں آیا، بدقسمتی سے کئی برس تک متفقہ آئین سے محروم رہا۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ایک مایہ ناز قانون دان تھے، قانون اور اس کی پیچیدگیوں کو بخوبی سمجھتے تھے، مگر حالات کے باعث پاکستان کو متفقہ آئین نہ دے سکے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان بھی یہ کام مکمل نہ کر سکے، لیکن شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو انیس سو تہتر کا متفقہ اسلامی، فلاحی آئین دیا، جو آج بھی چند آئینی ترامیم کے ساتھ نافذ العمل ہے۔ یہ ایک عظیم کارنامہ تھا، اور اس آئین کو پاکستان کے تمام صوبوں نے قبول کیا۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر پاکستان کو کسی چیز نے مضبوطی سے جوڑ رکھا ہے تو وہ انیس سو تہتر کا آئین ہے۔

انیس سو تہتر کے آئین سے پہلے ہر گاؤں اور قصبے میں نشے کے اڈے قائم تھے، جہاں شراب اور افیون سرِعام فروخت ہوتی تھی، جو اسلامی اصولوں کے منافی تھا۔ بھٹو صاحب نے پورے ملک میں ان اڈوں کو بند کروایا۔ ان سے پہلے پاکستان میں اتوار کی چھٹی ہوتی تھی، لیکن انہوں نے جمعہ کی چھٹی نافذ کی۔

برصغیر میں احمدیوں کے مسئلے پر بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اسمبلی میں بحث اور دلائل کے بعد احمدیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا، جسے ان کے حامی ایک تاریخی اقدام سمجھتے ہیں۔

شہید بھٹو نے پاکستان اسٹیل ملز کی بنیاد رکھی، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی باضابطہ بنیاد ڈالی، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان لا کر دفاع کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

امتِ مسلمہ کو متحد کرنے کے لیے انہوں نے اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کروائی، جس میں مسلم ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ جاگیردارانہ نظام، جو صدیوں سے عام انسان کے استحصال کا ذریعہ بنا ہوا تھا، اس کے خلاف اصلاحات متعارف کروائیں۔ اس دور میں بڑے جاگیرداروں کو بے پناہ اختیارات حاصل تھے اور عام آدمی ان کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور تھا۔

شہید بھٹو نے عام شہریوں، مزدوروں، کسانوں، ہاریوں اور مزارعوں کو ووٹ کا حق اور سیاسی شعور دیا تاکہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلے خود کر سکیں۔ زرعی اصلاحات نافذ کیں اور غریب کسانوں کو زمینوں کی ملکیت دی۔ آج بھی پاکستان، خصوصاً پنجاب کے دیہی علاقوں میں ہزاروں خاندان ایسے موجود ہیں جنہیں اس دور میں زمینیں الاٹ ہوئیں۔

دیہاتوں میں غریب طبقہ جاگیرداروں کے زیرِ اثر زندگی گزارتا تھا۔ بھٹو شہید نے آبادیٔ دیہہ کا قانون متعارف کروایا، جس کے تحت جو شخص جہاں رہائش پذیر تھا، اسے اس گھر اور زمین کی ملکیت دی گئی۔ اس اقدام سے لاکھوں لوگوں کو اپنے گھروں کا حق ملا۔

شہری علاقوں میں بھی کم آمدنی والے افراد کے لیے رہائشی بستیاں اور کم آمدنی والی رہائشی سکیمیں قائم کی گئیں، جہاں غریب اور مزدور طبقے کو مفت یا انتہائی کم قیمت پر پلاٹ فراہم کیے گئے۔

انہوں نے پورے ملک میں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور سفری سہولیات کے شعبے پر توجہ دی۔ پاکستان ریلویز کو بہتر بنایا اور سرکاری سفری خدمت شروع کی تاکہ عام آدمی بھی بہتر سفری سہولیات حاصل کر سکے۔

پاکستانی شہریوں کو سفری دستاویزات کے حصول میں آسانی دی گئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں پاکستانی بیرونِ ملک روزگار کے لیے گئے اور ملکی معیشت کو سہارا ملا۔

صنعتی شعبے میں مزدوروں کے حقوق کے لیے اہم اقدامات کیے گئے۔ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی، ہفتہ وار چھٹی، سماجی تحفظ کے اداروں اور ہسپتالوں کا قیام عمل میں آیا۔ مزدوروں کو کارخانوں کے منافع میں حصہ دیا گیا تاکہ ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آ سکے۔

ملک بھر میں طبی درسگاہیں، جامعات اور تعلیمی ادارے قائم کیے گئے۔ مزدور تنظیموں اور طلبہ تنظیموں کو فروغ دیا گیا، جنہوں نے بعد میں ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔

دیہی علاقوں میں غربت کے باعث تعلیم عام نہیں تھی، مگر بھٹو شہید نے تعلیم کو عام اور مفت بنانے کے اقدامات کیے۔ طلبہ کے لیے سفری اخراجات میں رعایت دی گئی، حتیٰ کہ ریل گاڑی اور ہوائی سفر میں بھی سہولتیں فراہم کی گئیں، جس سے تعلیمی انقلاب کی بنیاد پڑی۔

انہوں نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی اور فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ عوام میں شعور بیدار کیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور طاقتور طبقات کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوں۔


شہید بھٹو کا دیا گیا نعرہ آج بھی زبان زدِ عام ہے:
اسلام ہمارا دین ہے
سوشلزم ہماری معیشت ہے
طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں


بھٹو شہید سے پہلے عوام کو افسر شاہی اور جاگیردار طبقہ کمتر سمجھتا تھا، مگر انہوں نے مرکزی مقابلے کے امتحانات اور فوجی انتخابی امتحانات میں دیہی کوٹہ متعارف کروایا تاکہ غریب اور دیہی علاقوں کے نوجوان بھی اعلیٰ عہدوں تک پہنچ سکیں۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قلیل مدت میں ملکی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان کے کارناموں کی فہرست طویل ہے، اور ان کے چاہنے والوں کے نزدیک آج تک کوئی سیاسی رہنما ان جیسی انقلابی تبدیلیاں نہ لا سکا۔
سدا رہے آباد بھٹو
بھٹو بھٹو زندہ آباد

بھٹو صرف ایک رہنما نہیں، بلکہ اپنے حامیوں کے نزدیک ایک مسیحا تھے، جنہوں نے صدیوں پرانے فرسودہ نظام کو چیلنج کیا، محروم طبقوں کو امید دی، اور جدوجہد کا حوصلہ بخشا۔



  تازہ ترین   
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین روزہ دورے پر بیجنگ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال
ایوان صدر میں تقریب، مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں میں اعزازات تقسیم
وزیر خزانہ کی ٹیم کے ہمراہ آئی ایم ایف مشن سے ملاقات، معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال
انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، تحقیقاتی افسر تبدیل
کسی بھی منظر نامے کیلئے تیار، دشمنی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی: ایران
28 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے حکومت متحرک، اگلا ہفتہ اہم قرار
کانگریس رکن نے امریکی فضائیہ کے 39 طیارے تباہ ہونے کا اعتراف کر لیا
سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر