بیجنگ (شِنہوا) چین کی آٹو صنعت نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کی تیز رفتار ترقی کے باعث ماحول دوست اور اعلیٰ معیار کی تبدیلی کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اپریل میں پہلی بار یہ گاڑیاں چین میں گاڑیوں کی مجموعی ماہانہ فروخت کے نصف سے زیادہ حصے پر مشتمل رہیں جو اس شعبے میں ایک ساختی تبدیلی کی علامت ہے۔
چائنہ ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز (سی اے اے ایم)کے مطابق اپریل میں نئی گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں نئی توانائی گاڑیوں کا حصہ 53.2 فیصد رہا جو ایک سال قبل 47.3 فیصد تھا۔
2026 کے پہلے 4 ماہ کے دوران نئی توانائی گاڑیوں کی فروخت 43 لاکھ 4 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی جبکہ گاڑیوں کی مجموعی برآمدات میں 61.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 31 لاکھ 27 ہزار یونٹس تک جا پہنچیں۔ اس دوران نئی توانائی گاڑیوں کی برآمدات دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ کر 13 لاکھ 84 ہزار یونٹس ہو گئیں۔
سی اے اے ایم کے نائب سیکرٹری جنرل چھن شی ہوا نے کہا کہ حالیہ پالیسی اقدامات نے مثبت اشارے دیئے ہیں جو اندرون ملک طلب کو بہتر بنانے، غیر ملکی تجارت میں برتری مستحکم کرنے اور اس شعبے کی مستحکم و اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
مارکیٹ شیئر میں اضافے کے علاوہ چین کی ماحول دوست سفری مہم تیز رفتار تکنیکی ترقی اور بڑھتے ہوئے انفراسٹرکچر کی بدولت بھی مضبوط ہو رہی ہے۔ گزشتہ ماہ بیجنگ آٹو شو میں بی وائی ڈی نے نیکسٹ جنریشن کی ایک بیٹری متعارف کرائی جو صرف پانچ منٹ میں 400 کلومیٹر تک سفر کے لئے چارج فراہم کر سکتی ہے جو روایتی گاڑی میں ایندھن بھرنے کے وقت کے برابر ہے۔
چین کا آٹو سیکٹر عالمی تعاون کے دوران اعلیٰ معیار کی تبدیلی کو تقویت دے رہا



