قاہرہ (شِنہوا) شِنہوا تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اور عرب ریاستوں کے درمیان مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو آگے بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
شِنہوا نیوز ایجنسی سے وابستہ تھنک ٹینک شِنہوا انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے بدھ کو “نئے دور میں چین-عرب تعاون کی کامیابیاں، مواقع اور امکانات” کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ توانائی کی عالمی تبدیلی کے تناظر میں چین اور عرب ممالک بدلتے رجحانات کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں فریق نئی توانائی کے شعبے میں تعاون کو ترقی کا نیا محرک قرار دے رہے ہیں اور روایتی و قابل تجدید توانائی کی ہم آہنگ ترقی، نیز ٹیکنالوجی اور منصوبوں کے باہمی اشتراک پر مبنی تعاون ایک نئے نمونے کی تشکیل کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیل اور گیس کی روایتی تجارت میں اعلیٰ سطح تعاون برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ فریقین نے ہائیڈروجن توانائی اور شمسی توانائی جیسے شعبوں میں تعاون کو بھی نمایاں طور پر تیز کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چین توانائی کی اپنی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کی حمایت کر رہا ہے کہ وہ عرب ممالک میں قابلِ تجدید توانائی کے ان منصوبوں میں حصہ لیں جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 30 لاکھکلو واٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان صنعتی صلاحیت سازی، سائنسی و تکنیکی اختراع، تعلیم اور سیاحت جیسے شعبوں میں بھی تعاون کی مضبوط رفتار دیکھی جا رہی ہے۔
چین اور عرب ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، شِنہوا تھنک ٹینک رپورٹ



