تہران (شِنہوا) ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی تیل بردار اور تجارتی بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی “جارحیت” کی صورت میں خطے میں موجود امریکہ کے کسی بھی فوجی مرکز اور جہازوں پر سخت حملہ کیا جائے گا۔
یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں جاری کیا گیا جو جمعرات اور جمعہ کے روز آبنائے ہرمز کے اطراف ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی وقفے وقفے سے جھڑپوں کے بعد سامنے آیا۔
ایران نے 28 فروری سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول سخت کر دیا تھا اور اس نے اسرائیل اور امریکہ سے منسلک یا ان کے ملکیتی بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب دونوں ممالک نے ایرانی سرزمین پر مشترکہ حملے کئے تھے۔
امریکہ نے بھی آبنائے ہرمز پر بحری ناکہ بندی عائد کر دی ہے، جس کے تحت ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کو اس آبی راستے سے گزرنے سے روک دیا گیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران امریکی فوج نے کئی ایرانی بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں پر حملے کئے ہیں۔
ایک اور پوسٹ میں پاسداران انقلاب کی ایئرو سپیس ڈویژن نے کہا کہ اس کے میزائل اور ڈرونز خطے میں موجود امریکی اہداف اور “جارح دشمن” کے جہازوں پر نشانہ باندھ چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم فائرنگ کے حکم کے منتظر ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکی جہازوں پر حملوں کا انتباہ



