روم (شِنہوا) اطالوی مقامی اخبار کوریئرے ڈیلاسیرا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اٹلی میں موجود امریکی اڈوں سے فوجیوں کی منتقلی پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب ہمیں ضرورت تھی تو اٹلی وہاں موجود نہیں تھا۔اخبار کے مطابق ٹرمپ نے یہ بات ایک ٹیلی فون انٹرویو میں کہی۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے ایران کے اس جواب پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا جو امریکہ کی امن تجویز کے حوالے سے متوقع تھا اور جو جمعہ کو آنا تھا۔جمعہ کے روز روم کے دورے پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ایران سے توقع ہے کہ وہ دن کے آخر تک واشنگٹن کی جانب سے جاری کی گئی اس تجویز پر جواب دے گا جس کا مقصد جاری تنازع کا حل نکالنا ہے۔ٹرمپ کے فوجیوں کی منتقلی سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اٹلی کے وزیر دفاع گیڈو کروسیٹو نے کہا کہ ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی ان ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشن کی تیاری کر رہا ہے جو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور بحری راستوں کے تحفظ پر کام کرے گا۔امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے آخر تک تقریباً 12 ہزار 700 امریکی فوجی مستقل طور پر اٹلی میں تعینات تھے، جس کے باعث اٹلی یورپ میں جرمنی کے بعد امریکی فوجی موجودگی کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے۔
امریکی صدر اٹلی سے فوجوں کی منتقلی پر غور کر رہے ہیں، اطالوی میڈیا



