منیلا (شِنہوا) جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم کے رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کے بحران پر ردعمل سے متعلق ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس کا مقصد توانائی کی عالمی قلت اور رسد میں رکاوٹوں کے تناظر میں خطے کے مشترکہ ردعمل کو مضبوط بنانا ہے۔
فلپائن کے شہر سیبو میں منعقدہ سربراہ اجلاس کے دوران رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی معاشی بے یقینی، خاص طور پر توانائی کی سلامتی اور ایندھن کی فراہمی پر اثرات کے پیش نظر خطے کی مضبوطی کے لئے اپنے ’’مشترکہ عزم‘‘ کا اعادہ کیا۔
مشترکہ بیان میں رہنماؤں نے کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا، جن میں علاقائی سطح پر ایندھن کے اشتراک کے نظام کو فعال کرنا اور پورے جنوب مشرقی ایشیا میں بجلی کے بہتر رابطے کے لئے علاقائی پاور گرڈ کے منصوبے کو تیز کرنا شامل ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ ہم نے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جو نہ صرف عام شہریوں کی جان و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے بلکہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لئے بھی بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ توانائی سے متعلق معاہدے پر فوری عملدرآمد کیا جائے، جس کے تحت رکن ممالک رضاکارانہ اور تجارتی بنیادوں پر ایک دوسرے کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
رہنماؤں نے توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے پر بھی زور دیا تاکہ تیل پر انحصار کم کیا جا سکے، جبکہ قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے اور شہری جوہری توانائی سمیت نئی ٹیکنالوجیز کو بین الاقوامی حفاظتی معیار کے مطابق اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سیان رہنماؤں کا مشرق وسطیٰ بحران کے تناظر میں خطے کی مضبوطی کے لئے ’’مشترکہ عزم‘‘ کا اعادہ



