اک معاویہ رضی اللہ عنہ چاہئے، اصلاح احوال کے لئے

تحریر: قاضی عبدالقدیر خاموش

د یگر کی بات الگ ہے،خود اہلسنت نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالہ سے ظلم کیا ہے ، انہیں محض تقدس کے غلاف میں لپٹ کر اونچے طاقوں کی زینت تو بنا ڈالا لیکن ان کے محاسن سے حاصل کچھ نہیں کیا ۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کو معیار مانا جاتا ہے لیکن اگر سوال کرلیا جائے کہ آج کے حالات میں سیدنا عمر کی اقتصادی پالیسی کی روسے حل کیا ہے ؟ تو بڑے بڑے سر جھکالیتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ کوئی حل نہیں ،المیہ یہ ہے کہ علم ناقص ہے ۔ مسند علم مجاوروں کے قبضے میں ہے ، مجاہدہ اور علم کسے کہتے ہیں اس کا دراک کہاں ؟۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تو اس سے بھی بڑا ظلم روا رکھا گیاہے کہ واحد تعارف جنگ جمل اور صفین تک محدود کردیا گیا ، کوئی زیادہ کرے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے صلح تک آجائے ، لیکن یہاں بھی صرف فضائل کے بیان تک محدود ، اور بس ۔یہی سبب ہے کہ ہماری پالیسیوں میں ،فیصلوں میں حتیٰ کہ ہماری زندگیوں میں بھی تذکرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کمی ہے اور تدبر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رمق بھی نہیں ،ورنہ امت کا دامن حکمت سے اتنا بھی تہی دست نہیں کہ آج کے حالات کا حل نہ دے سکے ۔ تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان ارباب سیادت وقیادت کی صف اول میں دکھائی دیتے ہیں جنہیں قوموں کی شیرازہ بندی اور عروج وزوال میں فیصلہ کن کردار کا حامل خیال کیا جاتا ہے ،مگر اردو کیا عربی میں بھی شائد ہی کوئی تصنیف ملے جس میں سیاست معاویہ رضی اللہ عنہ کے خدوخال ،اقدامات و احکامات کی تفصیل مل سکے ۔جن کے بارے میں زبان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا نکلی کہ” یااللہ معاویہ رضی اللہ عنہ کوحکمت اور حساب کا علم عطا فرما”۔دعا زبان رسالت سے نکلے اور قبولیت نہ پائے ،کیسے ممکن ہے ۔ ایک ایک لمحہ اور ایک ایک قدم پر معاویہ رضی اللہ عنہ اس دعا کے مصداق دکھائی دیتے ہیں ۔
موازنہ کیجئے اس وقت کا جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سریر آرائے مسند نشیں ہوئے ، امت زخموں سے چور ،تفریق و تقسیم کی دیواریں عقائد سے بھی بلند تر ،ہر ہاتھ میں اپنے ہی بھائیوں کے خون سے لتھڑی تلواریں ،زبانوں پر سب وشتم کی آگ ، جسد امت میں زہر کی طرح سرائت کرجانے والے فارس کے سازشی عناصر،جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے لیکر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ،سیدنا علی رضی اللہ عنہ ،اور جمل وصفین میں شہید ہونے والے ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قتل کے ذمہ دار تھے ۔ دہکتے ہوئے عراق وشام سے اٹھتی نت نئی بغاوتیں ، اور چہار سو سرحدوں پر للکارتا اور پھنکارتا ہوا دشمن ۔۔۔کیا دور حاضر سے کوئی ایک بھی زخم کم ہے ۔۔۔۔۔؟ تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
،انہوں نے مسائل کا ادراک کیا ، اپنے فہم سے علاج تلاش کیا ،یہی سبب کہ ان کا عہد تاریخ اسلامی کا سب سے پر سکون وقت مانا جاتا ہے ۔ ایک طرف مثالی امن وامان ،دوسری جانب خوشحالی کا دور دورہ ،دین داری چہار دانگ عالم راہنما ،سیرت ۖ تاریخ و احادیث کی تدوین کی سرکاری سرپرستی ،فتوحات کا طوفانی سلسلہ ۔۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے 22لاکھ مربع میل پر مشتمل اسلامی ریاست چھوڑی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے65لاکھ مربع میل تک وسعت دی ، ایک جانب وہ یورپ کے قلب تک پہنچے تو دوسری جانب چین کے دروازوں پر دستک دے ڈالی ، وسط ایشیا میں ان کے جہادی دستے داخل ہوئے تو خراسان و بلوچستان تک پہنچے ۔قریبا ً آج کا پورا عالم اسلام انہی کے مرہون شجاعت ہے ۔سرحدوں کے پار شمشیر برہنہ اور سرحدوں کے اندر مزاکرات اور مشاورت ان کے بڑے اور کارگر ہتھیار تھے ۔ ”وامرھم شوریٰ بینھم ” کو جس گہرائی سے انہوں نے سمجھا اور اپنایا ان کے بعد کسی کو نصیب نہ ہوا ، فیصلہ تک پہنچنے کے لئے اتنی مشاورت کرتے کہ جب تک ہر پہلو سے مطمئن نہ ہوجاتے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو مطمئن کرنہ لیتے ،فیصلہ نہ کرتے ۔ مزاکرات کی سب سے بڑی مثال سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے ان کی صلح ہے ، جس نے امت کے جسد صد پارہ کو سیسہ پلائی دیوار بنا دیا ۔یہاں ان کا خلوص اور اعتماد اپنی انتہا پر ہے کوئی پوائنٹ سکورنگ کی نہ کوئی فائدہ اٹھایا خلوص ہی خلوص جب شرائط صلح کی بات آئی تو کورے کاغذ پر ان سے کہا جو چاہے لکھ دیجئے یہی ادا نواسہ رسول حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو ان کا گرویدہ کر گئ. وہ اپنے بڑے سے بڑے ناقدین کو پچھاڑنے سے زیادہ بات چیت تک لانے میں دلچسپی رکھتے تھے ۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جو بھی ان کے ساتھ بیٹھا ،گرویدہ ہوکر اٹھا اور ان کا وکیل بن گیا ۔ریاست اسلامیہ کے اندر مذہب کے بنیاد پر ان کے عہد میں کبھی کوئی تفریق دیکھنے میں نہیں آئی ، بلکہ حوار بین الادیان کاآغاز ان کے دور میں، ان کی سرپرستی میں ہوا۔جس نے ریاست کو استحکام بخشا ،طاقت عطا کی ، سازشوں کا راستہ بند کیا ۔
آج کا رونا کسی ملک کا نہیں ، اجتماعی طور پر امت ایک جیسے ہی مسائل کا شکار ہے اور دیکھا جائے تو علاج سیاست معاویہ رضی اللہ عنہ کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیتا ۔ امت کے عالمی سطح کے اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اجتماعی اور ملکی سطح کے معاملات کے حل اور اجتماعی ترقی واستحکام کی خاطرسیاست معاویہ رضی اللہ عنہ اور حکمت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اختیار کریں، حال کے مسائل کے تناظر میں منہج معاویہ رضی اللہ عنہ پر تحقیق کے ادارے بنائے جائیں ، تعلیمات معاویہ رضی اللہ عنہ کی روشنی میں منہج معاویہ رضی اللہ عنہ کو رائج کیا جائے ۔مسائل کے اسباب و عوامل جب وہی ہیں جو اس وقت تھے تو علاج اس سے مختلف کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے؟ ۔آج کا مسلمان جس سائنسی ، طبی ،اور فلکیاتی ترقی پر نازاں ہے ، اور جس کی مبادیات کواختیار کرکے آج کا مغرب ترقی یافتہ ہے اس سب کی بنا عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں ہی رکھی گئی تھی ۔آج دنیا کی سائنس وٹیکنالوجی ناکام ہوچکی ، انسان ایک چھوٹے سے نادیدہ وجود کے آگے اس طرح سے بے بس ہے کہ اس کی طاقت ،قوت اور تہذیب مکمل سرنڈر کرچکی ، ایسے میں اگر عالم اسلام حکمت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اختیار کرتے ہوئے ،اپنے عالمی کردار کا آغاز کرے تو یقینانشاة ثانیہ کا آغاز یہیں سے ہوگا۔
ان شا ء اللہ



  تازہ ترین   
پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے تمام ڈپازٹ بروقت واپس کر دیئے
خیبر: سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاع پر آپریشن، 22 خوارج جہنم واصل
اسرائیل لبنان جنگ بندی میں 3 ہفتے کی توسیع، ایران سے دیرپا معاہدہ چاہتے ہیں: ٹرمپ
ایران میں کوئی شدت پسند نہیں، سب انقلابی ہیں: ایرانی قیادت کا ٹرمپ کو جواب
امریکی افواج کی بحرہند میں کارروائی، ایک اور بحری جہاز قبضے میں لے لیا
امریکا کے گرین سگنل کا انتظار، ایران کو پتھر کے دور میں دھکیل دینگے: اسرائیل
معرکہ حق: فیلڈ مارشل کا بھارتی اشتعال انگیزی اور کشمیر پر دو ٹوک مؤقف
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر