برلن (شِنہوا) کیا سر درد فالج کی علامت ہے؟ کیا کھانسی کے لئے ایکسرے ضروری ہے؟ ٹیسٹ کے غیر معمولی نتائج کا اصل مطلب کیا ہے؟
صرف چند کلکس کے ذریعے اپنی علامات بتا کر اور میڈیکل رپورٹ اپ لوڈ کر کے لوگ سیکنڈوں میں مصنوعی ذہانت سے ایک بظاہر پیشہ ورانہ طبی تشخیص حاصل کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے طبی مشورے کے لئے اس ٹیکنالوجی کی طرف رجوع کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی واقعی مریضوں کی تشخیص اور علاج کر سکتی ہے؟
جرمنی کی ماربرگ یونیورسٹی اور یونیورسٹی ہسپتال گیسن و ماربرگ کے محققین کی جانب سے اپریل کے آغاز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق گردے کی شدید چوٹ (اے کے آئی) پر مبنی ایک معیاری ٹیسٹ میں کئی لارج لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایم ایس) نے ان طبی پیشہ ور افراد کو پیچھے چھوڑ دیا جنہوں نے اس جائزے میں حصہ لیا تھا۔
محققین نے عوامی طور پر دستیاب 13 لارج لینگویج ماڈلز کا موازنہ جرمن سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی 131 ویں سالانہ کانگریس میں شریک 123 رضاکاروں سے کیا جن میں میڈیکل کے طلبہ اور انٹرنل میڈیسن کے معالجین شامل تھے۔ دونوں گروہوں نے اے کے آئی کے بارے میں معلومات کا ایک جیسا ٹیسٹ مکمل کیا جو مریضوں کی دو فرضی کہانیوں اور 15 کثیر الانتخابی سوالات پر مشتمل تھا جن میں سے ایک بہترین جواب کا انتخاب کرنا تھا۔
ایل ایل ایمز نے 15 میں سے اوسطاً 13.5 نمبر یعنی 90 فیصد سکور حاصل کیا جبکہ کئی ماڈلز نے مکمل 100 فیصد نمبر حاصل کئے۔ اس کے برعکس انسانی شرکاء کا اوسط سکور 15 میں سے 7.3 رہا جو کہ 48.7 فیصد بنتا ہے۔ ان ماڈلز نے یہ ٹیسٹ انسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے مکمل کر لیا۔
تحقیق کے مصنف فلپ رس کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ایل ایل ایمز بہت تیزی سے طبی معلومات فراہم کر سکتے ہیں جو روزانہ کی کلینیکل پریکٹس کے لئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔
تاہم معیاری ٹیسٹوں میں اعلیٰ نمبروں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اے آئی کے پاس حقیقی دنیا کے علاج کے لئے ضروری فیصلہ سازی کی قوت بھی موجود ہے۔
13 اپریل کو جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ اے آئی ماڈلز اب بھی طبی استدلال میں پیچھے ہیں، خاص طور پر کیس کے ابتدائی مراحل میں جہاں معلومات محدود ہوتی ہیں اور درست تشخیص قائم کرنا مشکل ہوتا ہے۔
تشخیص کے عمل کو بہتر طور پر ظاہر کرنے کے لئے ماس جنرل بریگھم اور دیگر اداروں کے محققین نے 21 جدید ایل ایل ایمز کا جائزہ 29 معیاری کلینیکل کیس مثالوں کے ذریعے لیا۔ ماڈلز کو مرحلہ وار معلومات فراہم کی گئیں جس کا آغاز مریض کی بنیادی تفصیلات جیسے عمر، جنس اور علامات سے ہوا اور پھر جسمانی معائنہ اور لیبارٹری نتائج شامل کئے گئے۔ ہر مرحلے پر ان کی کارکردگی کا جائزہ میڈیکل طلبہ نے لیا۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ تمام ماڈلز 80 فیصد سے زیادہ مواقع پر مناسب متبادل تشخیص پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اکثر قابل اعتماد طریقے سے بیماری کی سب سے ممکنہ وجہ کا تعین نہیں کر سکے، نہ ہی سنگین بیماریوں کو خارج کر پائے اور نہ ہی یہ درست رہنمائی دے سکے کہ اگلا کون سا معائنہ یا ٹیسٹ کیا جانا چاہیے۔
مطالعے کے مرکزی مصنف مارک سوچی نے کہا کہ متبادل تشخیص کلینیکل سوچ کا بنیادی حصہ ہے اور یہی وہ طبی فن ہے جسے اے آئی فی الحال نقل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ طبی میدان میں اے آئی کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ ڈاکٹروں کی سوچ اور فیصلہ سازی کو بہتر بنانے میں مدد دے نہ کہ ان کی جگہ لے۔
اگر اے آئی خود سے طب کی پریکٹس کے لئے تیار نہیں ہے تو صحت کے شعبے میں اس کا کردار کیا ہونا چاہیے؟
ایسن یونیورسٹی ہسپتال اور یونیورسٹی آف ڈوئسبرگ-ایسن میں انسٹی ٹیوٹ فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس ان میڈیسن کے ڈائریکٹر جینس کلیزیک نے کہا کہ اے آئی کی بدولت ڈاکٹروں اور کمپیوٹرز کے درمیان تعاون مسلسل بہتر ہو رہا ہے۔
اس کے باوجود ڈاکٹر کی بنیادی ذمہ داری تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ کلیزیک نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی عنصر اب بھی نہایت اہم ہے اور مصنوعی ذہانت کو ایسے ڈاکٹروں کی نگرانی میں استعمال کیا جانا چاہیے جو اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنے کی مہارت رکھتے ہوں۔
مارک سوچی نے بھی اسی طرح کے نکتے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صحت عامہ کے شعبے میں ایل ایل ایمز کے لئے اب بھی انسانی موجودگی اور انتہائی قریبی نگرانی کی ضرورت باقی ہے۔
آزمائشی کامیابیوں کے باوجود مصنوعی ذہانت مستند ڈاکٹر کے طور پر کام کیوں نہیں کر سکتی؟



