تحریر: عابد حسین قریشی
حالیہ خلیجی جنگ خوفناک تھی، اور اس خطے کا مستقبل غیر یقینی۔ امریکہ اور اسرائیل نے گزشتہ تقریباً نصف صدی سے پابندیوں اور بین الاقوامی sanctions کی زد میں گرفتار ایران کو بہت ہلکا حریف سمجھتے ہوئے اس پر بلا اشتعال اور بغیر کسی اخلاقی و قانونی جواز کے بھرپور حملہ کر دیا۔ پہلے ہی دن ساری ایرانی سیاسی، روحانی اور فوجی قیادت کا خاتمہ کرکے یہ سمجھ لیا کہ اب ایران ایک تر نوالہ ثابت ہوگا۔ نیتن یاہو کی چالوں کا اسیر امریکی صدر ٹرمپ بھی اپنی افتاد طبع کے ہاتھوں اس جنگ میں بے خطر کود گیا۔ ایران نے جرات و شجاعت کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ جنگ میں کیا ہوا، یہ سب کے سامنے ہے، دہرانے کی ضرورت نہیں۔ مگر ایرانی قوم کی جرآت رندانہ اور پامردی دنیا دیر تک یاد رکھے گی۔ جب امریکہ اور اسرائیل پر پریشر زیادہ بڑھا۔ انکا نقصان انکی توقعات سے بڑھ کر ہوا، اور پھر ایک جھوٹی سچی جمہوریت کے اندر سے احتساب کی آوازیں بھی ابھرنا شروع ہوئیں، تو پھر صدر ٹرمپ کی نظر التفات پاکستان پر پڑی، کہ یہی اس مشکل میں اسکی مدد کر سکتا تھا۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے اس جنگ میں کمال دانشمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ ہوتے ہوئے اور امریکی اثر و رسوخ کا شدید غلبہ ہونے کے باوجود پاکستان نے تنے ہوئے رسہ پر چلتے ہوئے کمال مہارت سے اپنی غیر جانبداری کا بھرم رکھا بھی اور منوایا بھی۔ ہم نے اپنی زندگی میں اسطرح کی کامیاب حکمت عملی پاکستان کی طرف سے نہ سنی نہ دیکھی۔ ورنہ ہمارا ریکارڈ تو بڑا خراب تھا۔ امریکی صدر کی ایک کال پر ہم افغانستان پر چڑھ دوڑے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے، کہ یہ سفارتکاری اور ثالثی پاکستان اس وقت کر رہا تھا، جب ہم تاریخ کے بد ترین معاشی اور اقتصادی بحران کی زد میں تھے۔ ہم صرف IMF کے ہی مقروض نہ تھے، بلکہ اس جنگ کے براہ راست متاثرہ خلیجی ممالک کے مقروض بھی تھے۔ ایسے میں آپکو چوہدری کون مان سکتا ہے۔ یہاں تو لوگ غریب رشتہ داروں سے ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں، مگرجب نیتوں میں اخلاص اور نصرت الہی ساتھ ہو تو معجزے بھی ہوتے ہیں۔ ہر وقت اسرائیلی میزایئلوں کی زد میں تہران میں ہمارے فیلڈ مارشل کا اترنا اور مصالحت کی ساری شرائط طے کرنے تک ایران میں ہی رکنا، جرات و شجاعت اور معاملہ فہمی کی ایک نئی تاریخ رقم کر گیا۔ یہ منظر کتنا مسحور کن تھا، کہ بیک وقت ہمارے آرمی چیف ایران میں اور ہمارے وزیراعظم سعودی عرب میں تھے۔ امریکی صدر ببانگ دہل کہہ رہا تھا، کہ پاکستان ہی واحد ثالث ہے۔ بھارتی میڈیا زخموں سے چور چیخ و پکار کر رہا ہے۔ دنیا حیران و ششدر ہے، کہ پاکستان نے کیا کر دیا۔ تیسری عالمگیر جنگ اپنی کامیاب سفارتکاری سے رکوا دی۔ اسلام آباد مذاکرات کے بعد فریقین میں لچک پیدا کرانا اتنا آسان تو نہ تھا اور پھر ایران کو اسکے موقف میں کچھ لو کچھ دو کے اصول سے راضی کرنا اس سے بھی مشکل۔ اس وقت ہم اپنے اندرونی تضادات اور اختلافات کو کچھ وقت کے لئے فراموش کرکے پاکستان کی اس کامیابی کو انجوائے کریں۔ اللہ تعالٰی کا شکر ادا کریں۔کہ ہمارا یہ وطن عزیز جو شدید معاشی، سیاسی بحرانوں کی ہمیشہ زد میں رہا، آج اقوام عالم میں ایک معتبر ملک کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔بھارت ہمیں دہشت گرد سٹیٹ ثابت کرنے کے جنون میں گرفتار تھا، اللہ تعالٰی نے ہمیں امن پسندی کا لازوال سرٹیفکیٹ عطا فرما دیا، اور ہمیں دنیا میں سر اٹھا کر چلنا سکھا دیا۔دنیا اب پاکستان کو واحد ثالث کے طور پر یاد رکھے گی۔



