تحریر: محمد حسنین ہراج
شور کوٹ ضلع جھنگ کی تحصیل ہے۔ یہ جگہ تاریخی لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہے جس کی تاریخ شہر کے قریب مٹی کے ٹیلوں میں پوشیدہ ہے۔ 325 قبل مسیح سکندر اعظم نے جب شمالی و مغربی ہندوستان میں فتوحات کا آغاز کیا تو یہاں شور کوٹ پر بھی حملہ آور ہوا۔ جھنگ سے تقریباً 58 کلو میٹر جنوب میں واقع شور کوٹ ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے۔
اس شہر کی روحانی اہمیت بھی بڑی اہم ہے۔ حضرت سلطان باہو کے والد حضرت ابو زید محمد اور والدہ حضرت بی بی راستی صاحبہ کے مزارات اس شہر میں ہیں، یہی وجہ ہے کہ اسے مائی باپ کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ شورکوٹ کی تاریخ جھنگ سے زیادہ قدیم ہے۔ مورخین کے مطابق اس شہر کے پرانے نام سمیر کوٹ، آشور کوٹ، ایشور کوٹ، شیو کوٹ، سور کوٹ، شور کوٹ وغیرہ ہیں۔
یہاں پر موجود کھنڈرات اس بات کے گواہ ہیں کہ 10 ہزار سال قبل مسیح میں بھی یہاں انسان آباد تھے۔ ایک زمانے میں یہ شہر قدیم ترین قبائل سمیریوں، بابلیوں اور آشوریوں کی آماجگاہ رہا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ فرعون سیاستریس نامی سپہ سالار نے اس شہر کی بنیاد 10 ہزار سال قبل مسیح سے بھی پہلے رکھی تھی اور اپنے خدا کے نام سے منسوب کرتے ہوئے اسے ایشور کوٹ کا نام دے دیا، لیکن اس بارے میں کوئی واضح تاریخی حوالہ نہیں ملتا۔
شور کوٹ میں داخل ہوتے ہی قدیم قلعہ “بھڑ” کے آثار واقع ہیں جو سمیری قبائل نے آباد کیا تھا اور یہ قلعہ سمیریوں کے بعد کئی دیگر قدیم قبائل آریا، بھیل، در اوڑ اور آشوریوں کا مسکن رہا۔ 325 قبل مسیح میں سکندر اعظم جب ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو وہ کئی علاقوں سے ہوتا ہوا شور کوٹ پہنچا۔ اس وقت یہاں کٹھیٹھ (کاٹھیا) اور مل قبائل آباد تھے۔
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ سکندر یونانی دو ماہ تک اس قلعے کا محاصرہ رکھنے کے باوجود اسے فتح نہ کر سکا تو اس نے غصے میں سیخ پا ہو کر اسے بھاری منجنیقوں کی مدد سے تباہ کر دیا۔ سکندر یونانی کے غیض و غضب سے بچ جانے والوں نے قلعے کے شمال میں مختلف جگہوں پر اپنی الگ سے بستیاں آباد کر لیں۔
محمد بن قاسم نے جب 712ء میں سندھ کو فتح کیا تو اس نے سندھ سے چینوٹ تک کی مختلف ریاستوں کو پانچ صوبوں میں تقسیم کر دیا جن کو روڑ (روہڑی)، ملتان، برہما پور (شور کوٹ)، چندور (چنیوٹ) اور کوٹ کروڑ کے نام دیئے گئے۔ محمد بن قاسم کے دور میں پہلی بار شور کوٹ کو صوبے کا درجہ ملا تھا اور اس صوبے کا پہلا مسلمان گورنر جلال الدین محمود غازی کو بنایا گیا تھا۔ محمد بن قاسم کے علاوہ یہ علاقہ عباسی اور فاطمی خلافتوں کا حصہ بھی رہا۔
مغل بادشاہ شاہجہاں کے دور میں شور کوٹ، جھنگ اور کوٹ کروڑ کو صوبہ ملتان کا حصہ قرار دیا گیا۔ شاہجہاں مغل نے ہی حضرت سلطان باہو کے والد کو ان کی اسلامی خدمات کے صلہ میں قلعہ قہرگان کے قریب دریائے چناب کے کنارے جاگیر دی تھی جس میں شور کوٹ کا بھی کچھ حصہ شامل تھا۔
صوفی بزرگ سلطان باہو کی پیدائش شور کوٹ میں ہوئی تھی جنہوں نے اپنی تصانیف میں اس علاقے کا نام قلعہ قہرگان اور شور شریف لکھا ہے۔ انگریزوں کے آنے سے پہلے راجہ رنجیت سنگھ کے دور میں شور کوٹ کو ضلع جھنگ کی تحصیل بنا دیا گیا۔
برطانوی دور حکومت میں 1908ء کو شہر سے دور 11 کلو میٹر کے فاصلے پر ریلوے لائن بچھائی گئی تھی۔ 1965ء کی جنگ کے دو سال بعد پاک فضائیہ نے شور کوٹ میں ہوائی اڈہ قائم کیا اور کینٹ کا درجہ دیا۔ شور کوٹ دو حصوں، شور کوٹ شہر اور شور کوٹ کینٹ میں تقسیم ہے۔
اگرچہ یہ شہر مختلف ادوار میں کئی تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے اور تاریخی اعتبار سے بھی یہ شہر پاکستان کے دیگر تاریخی شہروں سے پرانا ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کی تاریخی اہمیت کو اجاگر نہیں کیا گیا، نہ ہی یہاں سے ملنے والی تاریخی نوادرات کے لیے کوئی میوزیم بنایا گیا تاکہ اس کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کیا جاتا۔
ہم پاکستانی شور کوٹ کو کینٹ کے حساب سے تو جانتے ہوں لیکن اس کی تاریخی اہمیت سے ناواقف ہیں، لہٰذا اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اس کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے تاکہ اس کی تاریخی حیثیت برقرار رہے۔
یہاں پر مادری زبان کے طور پر پنجابی بولی جاتی ہے اور یہ تحصیل زیادہ تر سیال گوتوں کا مسکن ہے۔ بھروانہ، سرگانہ، جنجیانہ، کملانہ، ڈب اور کاٹھیا یہاں کے نامور قبائل ہیں۔



