طاقت کا نیا رخ


تاثرات: مظہر طفیل
وہ ریاست جسے کبھی خلیج کا سب سے چالاک کھلاڑی سمجھا جاتا تھا، آج خود اپنی ہی بنائی ہوئی بساط میں الجھتی دکھائی دیتی ہے متحدہ عرب امارات کی ترقی، حکمتِ عملی اور علاقائی کردار کو محض معاشی کامیابی کی کہانی سمجھنا ایک بڑی سادہ لوحی ہوگی؛ درحقیقت یہ ایک طویل المدتی جیو اکنامک منصوبہ بندی تھی جس میں مفادات کو دوستی پر، اور اثرورسوخ کو شراکت داری پر ترجیح دی گئی، مگر تاریخ کا ایک اصول ہے کہ جب طاقت توازن سے نکل کر غلبے کی شکل اختیار کر لے تو ردِعمل ناگزیر ہو جاتا ہے۔ امارات نے تیزی سے خود کو عالمی مالیاتی و تجارتی مرکز بنایا، دبئی کو لاجسٹکس، بینکنگ اور سرمایہ کاری کا حب بنایا، مگر اس کے ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممکنہ حریفوں—خصوصاً پاکستان—کو ایک مخصوص دائرے میں محدود رکھنے کی کوشش بھی جاری رکھی گئی؛ یہ وہی پاکستان تھا جس نے امارات کی ریاستی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں خاموش مگر فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ 1971 میں قیام کے بعد امارات کے ابتدائی دفاعی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں پاکستانی ماہرین کی خدمات کلیدی رہیں، پاکستانی فوجی افسران نے اماراتی افواج کی تربیت کی، پاکستانی پائلٹس نے اس کی فضائیہ کو کھڑا کرنے میں مدد دی، پولیس اور سول انتظامیہ میں بھی پاکستانی افسران نے ابتدائی نظام کو استحکام دیا، اور لاکھوں پاکستانی محنت کشوں نے اس معیشت کو اپنے پسینے سے سینچا—یہ ایک ایسا تاریخی رشتہ تھا جس کی بنیاد باہمی اعتماد پر ہونی چاہیے تھی، مگر وقت کے ساتھ یہ تعلق ایک غیر متوازن معاشی انحصار میں بدل گیا۔
گزشتہ دو دہائیوں میں اس عدم توازن کا سب سے نمایاں ہتھیار مالیاتی دباؤ کی صورت میں سامنے آیا؛ امارات نے بارہا پاکستان کے اسٹیٹ بینک میں اربوں ڈالر کے ذخائر رکھ کر خود کو ایک کلیدی مالی سہارا بنا لیا، اور جب بھی پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے بحران کا سامنا ہوا، یہ رقوم ایک طرح کی “شرطی سہولت” کے طور پر استعمال ہوئیں—حالیہ برسوں میں جب پاکستان نے ان ڈپازٹس کی مدت میں توسیع اور شرائط میں نرمی کی درخواست کی تو امارات کی جانب سے واپسی کا تقاضا نہ صرف ایک معاشی فیصلہ تھا بلکہ ایک واضح سفارتی اشارہ بھی، جس نے یہ باور کرا دیا کہ مالی امداد محض مدد نہیں بلکہ اثرورسوخ کا ذریعہ بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں بندرگاہی مسابقت کو بھی ایک خاموش محاذ کے طور پر استعمال کیا گیا؛ کراچی، جو اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث ایک قدرتی تجارتی مرکز بن سکتا تھا، 2008 سے 2015 کے دوران شدید بدامنی کا شکار رہا، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور سیاسی عدم استحکام نے اس کی معاشی رفتار کو سست کر دیا، جبکہ اسی عرصے میں دبئی اپنی بندرگاہی اور مالیاتی طاقت کو مسلسل بڑھاتا رہا۔ اسی طرح گوادر، جسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت ایک اسٹریٹجک گیٹ وے کے طور پر ترقی دی جا رہا ہے، اسے بھی سکیورٹی چیلنجز اور علاقائی رقابتوں کا سامنا رہا—اگرچہ ان معاملات کی پیچیدگی کو صرف ایک زاویے سے دیکھنا درست نہیں، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ خطے میں ہر بڑی بندرگاہ ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت میں ہے اور ہر ریاست اپنے مفاد کے تحفظ کے لیے مختلف ذرائع اختیار کرتی ہے۔
2020 میں امارات کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا قیام ایک اور بڑی جیوپولیٹیکل تبدیلی تھی، جس نے اسے مغربی دنیا کے مزید قریب کر دیا، مگر اس فیصلے نے مسلم دنیا میں ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا، خصوصاً فلسطین کے مسئلے کے تناظر میں عوامی سطح پر اس کے اثرات نمایاں رہے؛ اس کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تناؤ، اور عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال نے خلیجی معیشتوں کے اس ماڈل کو بھی دباؤ میں ڈال دیا جو استحکام اور کھلے پن پر کھڑا تھا۔ دوسری جانب پاکستان میں 2013 کے بعد کراچی میں سکیورٹی آپریشنز کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی، کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئیں، اور بندرگاہی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا؛ گوادر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، پورٹ قاسم کی صنعتی توسیع، اور چین، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان ایک نئے معاشی توازن کی طرف بڑھ سکتا ہے—بشرطیکہ وہ اس موقع کو مستقل پالیسیوں، شفاف حکمرانی اور علاقائی توازن کے ساتھ استعمال کرے۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ کس نے کس کے خلاف کیا کھیل کھیلا، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی صورتحال سے کیا سبق سیکھتا ہے؛ کیا وہ ایک بار پھر کسی ایک ملک یا بلاک پر انحصار کرے گا یا ایک متوازن، خودمختار اور کثیرالجہتی خارجہ و معاشی پالیسی اپنائے گا؟ تاریخ واضح طور پر بتاتی ہے کہ جغرافیہ، آبادی اور وسائل وہ مستقل عوامل ہیں جو بالآخر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ وقتی برتریاں وقت کے ساتھ بدل جاتی ہیں؛ پاکستان کے پاس ایک منفرد جغرافیائی محلِ وقوع، بڑی آبادی، تزویراتی اہمیت اور ابھرتی ہوئی علاقائی شراکت داریاں موجود ہیں—اگر ان عناصر کو دانشمندی سے بروئے کار لایا جائے تو نہ صرف ماضی کی کمزوریوں کا ازالہ ممکن ہے بلکہ ایک ایسا مستقبل بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں تعلقات برابری، احترام اور باہمی مفاد کی بنیاد پر استوار ہوں، اور یہی وہ موڑ ہے جہاں ایک طویل عرصے سے زیرِ بحث “سنہری موقع” حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔



  تازہ ترین   
پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد ایران پہنچ گیا، اہم سفارتی پیش رفت متوقع
امریکی صدر کا ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ، سیز فائر میں توسیع سے انکار
جوہری صلاحیت توانائی کیلئے استعمال کرنا ہمارا حق، حقوق پر سمجھوتا نہیں ہوگا: اسماعیل بقائی
ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ، ہر گھنٹے بعد بجلی بندش سے شہری اذیت میں مبتلا
وزیرِ اعظم شہباز شریف سرکاری دورہ پر سعودی عرب پہنچ گئے
یو اے ای اور ایرانی حکام کا رابطہ، کشیدگی میں کمی پر تبادلہ خیال
سعودی عرب کا پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ میں توسیع
مذاکرات جاری، صدر ٹرمپ تہران سے چھوٹی نہیں جامع ڈیل چاہتے ہیں: جے ڈی وینس





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر