کراچی. محمد علی سوسائٹی، 40 سالہ مشہور بیوروکریٹ جانے مانے شاعر مصطفیٰ زیدی کی لاش بر آمد ہوئی.
2 دن قبل ہی انھوں نے اپنی چالیسویں سالگرہ منائی تھی، اس ہی گھر کے دوسرے کمرے میں 28 سالہ خوبصورت لڑکی شہناز گل بھی بیہوشی کی حالت میں پائی گئی۔
مصطفیٰ زیدی کیس پاکستان کا مشہور اور پراسرار سیکس سکینڈل اور موت کا معمہ سمجھا جاتا ہے۔
ایک مشہور اردو شاعر، CSP افسر مصطفیٰ زیدی کی شاعری رومانوی اور حساس تھی۔ مَسرت نذیر کی مدھر آواز میں گایا مشہور گیت.. چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ۔۔ ان ہی کی شاعری ہے.
13 اکتوبر کی صبح دوست اور فیملی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے کیونکہ فون مصروف تھا اور مصطفی زیدی سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔
مصطفیٰ بستر پر مردہ پڑے تھے, منہ اور ناک سے خون بہہ رہا تھا، چادر پر بڑا خون کا دھبہ تھا۔
ساتھ والے کمرے میں خوبصورت سوشلائٹ، شادی شدہ خاتون شہناز گُل بے ہوش فرش پر پڑی تھیں، لگ یہ رہا تھا کہ ڈرگز اوور ڈوز کی وجہ سے وہ ہوش میں نہیں تھی۔
پولیس کو کچھ پمفلٹس بھی ملے جن پر شہناز کی عریاں تصاویر تھیں۔
کراچی کی ہائی سوسائٹی کی مشہور خاتون شہناز کا گوجرانوالہ سے تعلق تھا، شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں۔ مصطفی زیدی بھی شادی شدہ تھے اور ان جرمن نژاد بیوی سے دو بچے بھی تھے لیکن مصطفی زیدی سے شہناز کا افئیر کھلا راز تھا۔
شہناز پر ہی بیوروکریٹ مصطفی زیدی کے قتل کا الزام لگا۔ مصطفی زیدی کی لاش کو کراچی کے سول ہسپتال اور بیہوش شہناز کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔
چالیس سالہ سی ایس پی افسر مصطفی زیدی مشہور شخصیت تھے اسلئے یہ کیس بہت مشہور ہوا، اخبارات نے مہینوں تک فرنٹ پیج پر کور کیا۔
شہناز گل جیسے ہی جناح ہسپتال کے بیڈ پر ہوش میں آئی تو ایک سپاہی اور ایک صحافی وہی کھڑے تھے، صحافی نے ہسپتال کے بیڈ پر ہی اٹھائیس سالہ دوشیزہ شہناز گل کی تصویر کھینچی جو بڑے اخبارات کے فرنٹ پیج پر چھپی۔
ٹرائل تقریباً دو سال چلا۔
عدالت نے شہناز گُل کو بری کر دیا۔ فیصلہ 32 صفحات کا تھا۔ عدالت نے نتیجہ نکالا کہ ثبوت ناکافی ہیں اور بیوروکریٹ مصطفی زیدی کی موت خودکشی لگتی ہے۔
زیدی پہلے بھی دو بار خودکشی کی کوشش کر چکے تھے۔ شاید اس روز بھی دونوں نے ڈرگز لیں لیکن شہناز بچ گئیں۔
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ شہناز نے زہر دیا یا کوئی اور ملوث تھا، سیاسی سازش، اسمگلنگ، یا حسد کی وجہ کا ذکر بھی آیا۔
یحییٰ خان کے دور میں 300 بیوروکریٹس کی لسٹ تیار ہوئی جن کو کرپشن کے الزام میں برطرف کیا گیا، ان میں مصطفی کا نام بھی تھا۔ مصطفی زیدی کا موقف تھا کہ رشوت نا لینے پر میرے خلاف سازش ہوئی۔ عہدہ گیا اور شاید اپنے ساتھ ان کی شخصیت کا خاص عنصر بھی ساتھ لے گیا، کیس کے دوران اور اخبارات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مصطفی زیدی کی برطرفی کے بعد شہناز نے انھیں نظر انداز کرنا شروع کردیا، مصطفی شہناز سے شادی کرنا چاہتے تھے مگر شہناز گُل کے بارے میں مشہور ہوا کہ وہ کسی اور بااثر شخصیت سے تعلق میں آگئی تھی، مصطفی زیدی اس بات پر بھڑکے ہوئے تھے اس لئے ہاکس بے کے ایک ہٹ میں شہناز کی عریاں تصاویر بنوائی جو انکی موت والے دن کمرے سے بھی ملی۔ کہا جاتا ہے کہ تین بڑے اخبارات نے وہ تصاویر چھاپی جس کی معافی ان کے مالکان نے تب مانگی جب عدالتی کاروائی کا اندیشہ ہوا۔
عدالتی کاروائی میں شہناز کا بیان اور رویہ مصطفی کے متعلق ایسا تھا کہ جیسے وہ بالکل بھی انٹرسٹڈ نہیں تھی مگر شاعر مصطفی زیدی ہی اس کے پیچھے اپنی تینتیس سالہ جرمن بیوی کو دھوکا دے رہے تھے، اور شاید اس ہی لئے وہ انھیں چھوڑ کر بچوں سمیٹ جرمنی چلی گئی تھی۔
نتیجہ یہی ہے کہ سب سے زیادہ امکان خودکشی کا ہے، لیکن مکمل راز اب بھی حل نہیں ہوا۔ کئی جگہوں پر یہ تحریر ہے کہ مصطفی زیدی نے ائیرپورٹ پر شہناز کے خلاف سازش کی کوشش کی تھی، اس پر ہیروں کی سمگلنگ کا کیس ڈالنا چاہتے تھے لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ وہ یہ ملکی مفاد میں کر رہے تھے یا بیوفائی کے غم میں۔
تنیجہ یہ تھا کہ دو بچوں کے باپ جرمن نژاد جوان بیوی کے شوہر مشہور شاعر اور بیوروکریٹ مصطفیٰ زیدی ایک روز اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔
انکی نماز جنازہ کراچی کے تاریخی علاقے رضویہ سوسائٹی کی امام بارگاہ میں ادا کی گئی۔
شاعر فہیم شناس کاظمی نے مصطفیٰ زیدی اور ان کی محبوبہ شہناز کے تعلق کے بارے میں ایک شعر کہا تھا کہ
جن کو چھو کر کتنے زیدیؔ اپنی جان گنوا بیٹھے
میرے عہد کی شہنازوںؔ کے جسم بڑے زہریلے تھے
یہ کیس آدھی صدی پرانا ہے۔
یہ 1970 کی کراچی کی ہائی سوسائٹی، محبت، غداری، میڈیا کی سنسنی خیزی، عورت اور معاشرتی منافقت کی کہانی ہے۔ شہناز گل کی زندگی اس واقعے کے بعد تبدیل ہو گئی، لیکن وہ بعد میں کراچی کی سوسائٹی میں واپس آ گئیں، ان کا انتقال 2010 میں ہوا۔



