تحریر: عابد حسین قریشی
12 فروری 2025 تقریباً ساڑھے تین بجے صبح کے سحر انگیز لمحات میں میری والدہ محترمہ اللہ کے حضور پیش ہوگئیں۔ آج ایک سال انہیں ہم سے بچھڑے مکمل ہوا۔ ماں کے بغیر تو ایک پل گزارنا مشکل ہوتا ہے، سال گزر گیا۔ مگر ہر روز انہیں دعاؤں میں بھی یاد رکھا اور انکی باتوں اور قربت میں گزرے لمحات کو بھی بھلانا ممکن نہ تھا۔ جس روز اماں جی کی وفات ہوئی، انکا جسد خاکی لاہور سے سیالکوٹ لے جاتے بھیگی آنکھوں سے ایمبولینس میں بیٹھ کر والدہ کی قربت کے آخری لمحات سے استفادہ کرتے ہوئے ایک آرٹیکل”” کیا ماں مر بھی سکتی ہے””۔ لکھا۔ خود بھی رویا اور لوگوں کو بھی رلایا۔ آج پھر وہی صورتحال ہے۔ صبح سے بیقراری ہے، آج صبح سے آنکھیں نمناک ہیں، دل بوجھل ہے۔ آنکھوں کے سامنے اماں جی کی ہنستی مسکراتی تصویر ہے، اس گزرے سال میں کون سا موقع تھا جب اماں جی کو یاد نہ کیا۔ میرے ساتھ تو انکی 65 سال کی رفاقت تھی۔ جب بھی زندگی میں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، خود حاضر ہو کر یا فون پر دعا کی درخواست کی۔ دعا اس طرح قبول ہوتی کہ مسئلہ مسئلہ ہی نہ رہتا۔ ماں تو ہر وقت اولاد کی خیر ہی مانگتی ہے۔ ماں تو شاید اس دنیا میں رحمت خداوندی کا دوسرا روپ ہے۔ سراپا رحمت، سراپا صبر و رضا اور ہر حال میں اپنی اولاد کی خیر خواہ۔ اور اس رشتہ کا متبادل ملنا شاید ممکن نہیں۔ اس سال میرے بیٹے حسن سمیت میرے دونوں بھائیوں کے بیٹوں کی شادیاں بھی ہوئیں۔ انہیں اپنے ان تینوں پوتوں سے بے حد پیار تھا اور انکی شادی کی منتظر بھی رہیں۔مگر زندگی نے مہلت نہ دی۔ چشم تصور میں میری سماعتیں اپنی والدہ کو ڈھولک کے آس پاس ٹپے اور ماہیے گاتا سن سکتی تھیں۔ مگر شاید جانے والے واپس نہیں آتے، بس اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ ماں کی یادیں اور باتیں تو شاید وقت کی گرد میں دھندلا جائیں، مگر ماں کی کمی اور عدم موجودگی والا خلا شاید کبھی نہ بھر سکے۔ ماں کا رشتہ اتنا پرخلوص، پر بہار، گرمجوش، ایثار و قربانی میں گھندا ہوا، آشیفتگی و وارفتگی سے لبریز، اولاد کے لئے مضبوط دعاؤں کا حصار۔ اسے الفاظ میں کیسے پرویا جا سکتا ہے۔ یہ تو دلوں کی اور روح کی کہانی ہے۔ یہ تو ہر ماں کی کہانی ہے، اور اسے وہی سمجھ سکتا ہے جسکی ماں دنیا سے رخصت ہوچکی۔ اللہ تعالٰی جن کی مائیں زندہ ہیں انکو سدا سلامت رکھے اور میری ماں سمیت جن کی مائیں اس دنیا سے جا چکیں انکی آخروی منازل آسان فرمائے۔ احباب سے صرف دعاؤں کی درخواست ہے۔



