ویب ڈیسک(نیشنل ٹائمز) خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں آنے والے تباہ کن سیلابی ریلے نے درجنوں خاندانوں کو اجاڑ ڈالا۔ انہی میں ایک اسکول ٹیچر ادریس بھی شامل ہے جو اپنے زخموں اور غم کے بوجھ کے باوجود غیر معمولی حوصلے کی تصویر بنا ہوا ہے۔ادریس ہمیشہ کی طرح صبح اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلا ہی تھا کہ اچانک خوفناک سیلابی ریلے نے پورے علاقے کو لپیٹ میں لے لیا، وہ اپنے بھائی کو آوازیں دیتے ہوئے گھر کی طرف دوڑا لیکن پانی کا تیز بہاؤ اسے اور دور لے گیا۔مقامی افراد نے بڑی مشکل سے ادریس کو بچایا مگر اس دور ان اس کے والدین اور 2 بھائی سیلاب میں بہہ گئے۔طبی ماہرین کے مطابق اس سانحے کے اثرات سے نکلنے کے لیے ادریس کو طویل عرصے کونسلنگ اور علاج کی ضرورت ہوگی۔ْ
سیلاب کے بعد بونیر کی صورت حال
ضلع بونیر میں سیلاب کےبعد وبائی اور دیگر امراض پھوٹ پڑے ہیں، معدے، سانس اور جلد کی بیماریوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔سب سےزیادہ سیلاب سے متاثرہ علاقہ بیشونئی میں صوبائی حکومت اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے میڈیکل کیمپس لگائے گئے ہیں جہاں مختلف امراض کےڈاکٹرز لوگوں کا علاج کر رہےہیں اور مریضوں کو ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ادھر سیلاب سے متاثرہ پیربابا بازار کی صفائی کا کام جاری ہے جہاں سیلاب کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے جبکہ دکاندار اپنی دکانوں میں اشیاء خورونوش ڈال کر بازار میں معمولات زندگی کو بحال کرنے میں مصروف ہیں۔
بونیر سیلاب میں خاندان کھو دینے والا استاد ادریس حوصلے کی مثال بن گیا



