برسلز (نیشنل ٹائمز) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے برسلز میں بین الاقوامی فلاحی تنظیم “ہینڈ ان ہینڈ انٹرنیشنل” کی سربراہ کرس بنز سے ملاقات کی، جس میں خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلاب، انسانی جانوں کے ضیاع، مالی نقصانات اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران گورنر نے کہا کہ پاکستان، بالخصوص خیبرپختونخوا، موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سیلاب، کلاؤڈ برسٹ اور دیگر قدرتی آفات کا سامنا کر رہا ہے، حالانکہ ان عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں میں پاکستان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث خیبرپختونخوا میں 400 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرے اور بحالی کے اقدامات میں عملی تعاون فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ “ہمیں اجتماعی کوششوں سے ان ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کرنا ہوگا۔”

کرس بنز نے پاکستان میں حالیہ سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کی بحالی اور امدادی سرگرمیوں کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہینڈ ان ہینڈ انٹرنیشنل” ماضی میں بھی پاکستان میں زلزلہ اور سیلاب متاثرین کے لیے خدمات انجام دے چکی ہے، اور آئندہ بھی حکومت پاکستان کی درخواست پر مکمل معاونت فراہم کی جائے گی۔
گورنر نے کرس بنز کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ وہ زمینی حقائق کا خود مشاہدہ کر سکیں۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کا موسمیاتی مقدمہ عالمی سطح پر مضبوط ہے، اور وقت آ گیا ہے کہ عالمی ادارے اس اہم مسئلے پر مؤثر اور فوری اقدامات کریں۔



