لاہور (نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہماری پالیسی ٹکراؤ کی ہرگز نہیں ہے، اگر ہم اقتدار میں آتے ہیں تو کسی پر مقدمات نہیں بنائیں گے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس کا فیصلہ ہم سن چکے ہیں قوم کو سنانا باقی ہے، مجوزہ آئینی ترمیم کا مستقبل بھی ہم جان چکے ہیں قوم بھی جان جائے گی اور جو ہم سن چکے ہیں وہ اب آپ کو سنایا جائے گا، کیا اسے جمہوریت کہتے ہیں؟ اگر آج جو حالات ہیں اسے آپ جمہوریت کہتے ہیں تو آپ کو یہ جمہوریت مبارک ہو، اگر آج یہ آزادی ہے، میڈیا اگر آزاد ہے تو آپ کو ایسی آزادی مبارک ہو۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ چوہدری پرویز الہٰی نے بڑی تکلیف کاٹی ہے، وہ کل بھی وہیل چئیر پر عدالت آئے، کیا کسی کی کوشش کو ایک منٹ میں ختم کیا جا سکتا ہے؟ قیدی کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جس سے روکنے کے لیے آج دفعہ 144 Use نہیں بلکہ Abuse کی جا رہی ہے، اس سب کے باوجود اگر ہم اقتدار میں آتے ہیں تو ہم کسی پر مقدمات نہیں بنائیں گے کیوں کہ ہماری پالیسی ٹکراؤ کی ہرگز نہیں ہے۔
علاوہ ازیں شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجوزہ آئینی یہ ترامیم کے ذریعے 73ء کے آئین کی شکل بگاڑ رہے ہیں، مولانا نے بہت سمجھ بُوجھ سے کام لیا، مولانا فضل الرحمان کو دباؤ میں نہ آنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، مولانا فضل الرحمان جانتے ہیں ترمیم عجلت میں نہیں کی جاتی، وہ کسی کے دباؤ میں نہیں آئے، 50 سے زائد ترامیم ہیں عجلت کیوں دکھا رہے ہیں؟ آئینی مسودے کو سیاسی جماعتوں سے چھپا کر رکھا گیا، اس نے اسمبلی میں آنا ہے تو پتا چل جائے گا، بہتر ہے اس کو سب کے سامنے پیش کیا جائے اور بحث کروائی جائے، میں تمام سیاسی جماعتوں کو کہنا چاہتا ہوں یہ مسودہ تسلی سے پڑھیں اور اس پر بحث مباحثہ ہو، آئینی ترمیم حساس اور سنجیدہ مسئلہ ہے، عجلت میں ترمیم کرنا نامناسب ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ترامیم عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہیں، پاکستان کے وکلا نے آئین کے لیے لمبی تحریک چلائی، اس وکلا کمیونٹی نے بھی اس کی محالفت کردی ہے کیوں کہ یہ ترمیم آئین کا جنازہ نکالنے کا مترادف ہے، بلاول کو پیغام دیتا ہوں کہ آپ کے نانا نے 1973 کا آئین اتفاق رائے سے بنایا تھا، آپ اپنے نانا کے آئین کو دفن کررہے ہیں، حکومت کو عدلیہ کی تعیناتی اور تبادلوں کا اختیار نہیں ہونا چاہیے، یہ 73ء کے آئین کی شکل بگاڑ رہے ہیں، یہ ایسی ترمیم ہے جو آئین کی ساکھ کو تبدیل کردے گی، آئین کی ساکھ کو تبدیل کرنے والی ترمیم غیر آئینی ہے، فلور کراسنگ کی اجازت دی گئی تو پارلیمنٹ بکرا منڈی بن جائے گی۔



