نیو یارک (نیشنل ٹائمز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے سے ملکی معیشت مزید مستحکم ہوگی، ایک وقت تھا جب پاکستان کے ڈیفالٹ کی باتیں ہورہی تھیں، آج شرح سود میں کمی ہونے سے معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں،نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے مزید کہا کہ کوششیں کی جا رہی تھیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کرجائے۔
مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آنا خوش آئند ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد معیشت ٹھیک ہونا شروع ہوئی۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھی ریکارڈ ترسیلات زر ہوئیں۔موجودہ دور میں پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی بہتر ہورہی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماو¿ں کے ساتھ ملاقاتوں کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔
ڈالر کی اسمگلنگ روکنے سے روپیہ مستحکم ہوا جبکہ بعض لوگ چاہتے تھے پاکستان ڈیفالٹ کرجائے۔
انہوں نے کہا کہ ڈالر کی سمگلنگ روکنے سے روپیہ مستحکم ہوا۔ بلوم برگ نے پاکستانی معیشت میں بہتری کی تعریف کی۔موڈیز اور فچ نے بھی پاکستانی معیشت کو مستحکم قرار دیا۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کی مختلف ملکوں کے سربراہان سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ایرانی رہنما سے بھی وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات ہوئی۔
گیس پائپ لائن سمیت عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف 80 ہزار سے زائد قربانیاں دیں۔ دہشت گردی کے باعث معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ہماری کوششوں سے کراچی کا امن بحال ہوا۔ وزیر اعظم کا سلامتی کونسل سے خطاب اہم ہوگا۔ وہ فلسطین کا مسئلہ اٹھائیں گے اور اسلامو فوبیا پر بات کریں گے۔ڈالر کی اسمگلنگ روکنے سے روپیہ مستحکم ہوا جبکہ بعض لوگ چاہتے تھے پاکستان ڈیفالٹ کرجائے۔
تاہم آٹا 120 سے 60 روپے اور پیٹرول 300 سے 249 پر آگیا۔انہوں نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت اور قیادت پاکستان سے بڑی نہیں ہے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں نہیں تو پاکستان نہیں یہ قابل قبول نہیں ہے، تعمیری تنقید کی باری آتی ہے تو ہم حاضر ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روزپاکستان کیلئے بیل آوٹ پیکج کی منظوری دی تھی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 7 ارب ڈالرز کے بیل آوٹ پیکج کی منظوری دی گئی تھی۔
پاکستان کو 30 ستمبر تک 1.1 ارب ڈالر کی پہلی قسط ملنے کا امکان ظاہر کیاگیاتھا جبکہ قرض پروگرام منظوری کے بعد دوسری قسط بھی اسی مالی سال آئے گی۔ آئی ایم ایف کا قرض 5 فیصد شرح سود سے کم پر ملے گا۔آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹلینا جورجیویا کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا تھاجس میں پاکستان کا ایجنڈا سر فہرست تھا۔



