اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ قاضی فائزعیسیٰ کے علاوہ آئینی کورٹ کا سربراہ لگنے کیلئے کوئی قابل جج موجود نہیں،چیف جسٹس ہر ایکشن سے ثابت کررہے کہ عمران خان ٹھیک کہہ رہے ہیں، ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہو یا63اے کا کیس ہو قاضی فائز اپنے پاس لگا رہے ہیں، ن لیگ کوووٹوں کی دوبارہ گنتی میں چار سیٹیں دے دی گئیں۔
انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم کی ہیئت دیکھی جائے تو بنیادی طور پر وکلاء کا پروفیشنل ہی ختم کردیا گیا، جنوبی افریقہ کے علاوہ کامن لاء ممالک میں کہیں بھی آئینی عدالت نہیں ہے، پاکستان پہلا ملک ہوگا جہاں دو سپریم کورٹ اور دو چیف جسٹس، جن 35ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں وہاں سول کورٹس ہیں، ان آئینی ترامیم میں سیاسی جماعتیں اسٹیک ہولڈرز نہیں ہیں، اسٹیبلشمنٹ کو جس نے مشورہ دیا غلط مشورہ دیا ہے،کہ سپریم کورٹ کو فتح کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں رہے گا، اس کو پتا نہیں کہ وہ ملک کو کس عدم استحکام کا شکار کردیں گے، حکومت کو جو آئینی عدالت لانا چاہتی ہے یہ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے، آئینی ترامیم کیخلاف پی ٹی آئی کے پاس کوئی اسٹریٹجی نہیں ۔
یہ جو آٹھ دس ججز ہیں یہ انٹرنیشنل لیول کے ججز ہیں نوکری ان کا مسئلہ نہیں ہے، یہ کبھی اس طرح کی عدالت میں نہیں بیٹھیں گے، آئینی ترامیم ہونے اور آئینی عدالتیں بننے پر اکثریتی ججز مستعفی ہوجائیں گے ، اس سسٹم میں جج رہنا ممکن نہیں ۔ وکلاء اپنے مستقبل کیلئے تحریک چلائیں گے۔ کسی نے مجھے کہا عمران خان چیف جسٹس پر تنقید کررہے ہیں تومیں نے کہا پرابلم یہ ہے کہ چیف جسٹس ہر ایکشن سے ثابت کررہے کہ عمران خان ٹھیک کہہ رہے ہیں، ہر وہ کیس کا جس کا اثر آئینی ترامیم پر پڑ رہا ہے وہ کیسز اپنے پاس لگا رہے ہیں۔
ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں چار سیٹیں ن لیگ کو دے دیں، 63اے کا کیس اپنے پاس لگا رہے ہیں۔قاضی فائزعیسیٰ کے علاوہ آئینی کورٹ کا سربراہ لگنے کیلئے کوئی قابل جج نہیں،اب منصور علی شاہ کو تو نہیں لگائیں گے،اب الیکشن کمیشن میں ٹربیونل میں جو ججز لگیں گے ان سے دیکھ لینا کیسے ججز ہوں گے۔ پاکستان میں جوڈیشل کرائسز کم نہیں ہونا بڑھنا ہے۔



