اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) جے یوآئی ف کے مرکزی رہنماء راشد سومرو نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے متعلق حکومت اور پی ٹی آئی کے اپنے اپنے مفادات ہیں،پی ٹی آئی چاہتی اگلا چیف جسٹس آئے اور عمران خان کو ریلیف ملے، حکومت چاہتی وہ ابھی جیل میں رہے، مولانا فضل الرحمان نے نوازشریف کو ملاقات سے انکار نہیں، انہیں ہمیشہ ویلکم کرتے ہیں۔
انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دے کر اپنا ووٹ 22 کروڑ عوام کے پلڑے میں ڈالا ہے، اگر اس کا ریلیف عمران خان کو ملتاہے تو شکریہ کہ ہمیں کل تک گالیاں دیتے تھے، آج شکریہ ادا کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ساتھ اچھے ماحول میں ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں وہ بھی اپوزیشن میں ہیں ہم بھی اپوزیشن میں ہیں۔
بات پی ٹی آئی کی نہیں بات ہمارے اصولی مئوقف ہے۔اگر آئینی اصلاحات کی جاتی ہیں جس سے عوام کو ریلیف ملے، 24 ہزار کیسز التواء میں پڑے ہیں، اگر ایسی کوئی اصلاحات لائی جاتی ہے جس میں ججز کی تقرری اور عمر بڑھانے کی بات نہیں ہوگی تو جمیعت علماء اسلام حمایت کرے گی۔ کچھ چیزوں میں بلاول بھٹو اور اعظم نذیر تارڑ بالکل لاعلم تھے۔ حکومت عجلت میں آئینی ترمیم کررہی ہے، حکومت اور پی ٹی آئی کے اپنے اپنے مفادات ہیں، پی ٹی آئی چاہتی اگلا چیف جسٹس آئے اور عمران خان کو ریلیف ملے، حکومت چاہتی عمران خان ابھی جیل میں رہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے نوازشریف کیلئے ملاقات سے انکار نہیں، نوازشریف بڑے لیڈر ہیں، نوازشریف کیلئے مولانا فضل الرحمان کے ہمیشہ دروازے کھلے ہیں، ہمیشہ ویلکم کرتے ہیں۔ اس موقع پر پروگرام میں وزیرمملکت برائے خزانہ رانا احسان افضل نے کہا کہ آئینی ترمیم کیلئے حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے، دیگر جماعت ساتھ ملیں گی تو حکومت ترمیم کرسکتی ہے،آئینی ترمیم مولانا فضل الرحمان کی شمولیت سے ہی ممکن ہوگی، ہمارا خیال تھا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کو منالیں گے، نوازشریف کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ آئینی ترمیم سے عدلیہ کی آزادی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔



