اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے مجوزہ آئینی ترمیم غیر معینہ مدت تک موخر ہونے کی تصدیق کر دی،آج قومی اور سینیٹ کے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان کو ترامیم پر اتفاق ہے مگر انہوں نے بعض نکات پر مزید اتفاق رائے کرنے کا کہا ہے، پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسودہ کبھی بھی سامنے نہیں آتا پہلے یہ ایوان میں پیش ہوتا ہے۔
ہمارے نمبرز پورے ہیں۔ترامیم آنے میں ہفتہ دس دن بھی لگ سکتے ہیں اور اگر ترامیم نہیں بھی آئیں تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔مولانا فضل الرحمان نے وقت مانگا ہے وہ بہت ساری چیزوں پر ہمارے ساتھ مطمئن تھے مگر کچھ چیزوں پر اتفاق رائے کیلئے انہوں نے مزید وقت مانگا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان آئینی ترامیم پر ڈیڈ لاک تاحال برقرار ہے۔
آئینی ترامیم پر اتفاق رائے کے بعد ہی مسودہ قومی اسمبلی اورسینٹ میں پیش کیاجائے گا۔ خصوصی کمیٹی میں جب فیصلہ ہوجائے گا اور مولانافضل الرحمان راضی ہوجائیں گے تو یہ بل وفاقی کابینہ میں پیش ہوگااورپھر اس کے بعد اس بل کو قومی اسمبلی و سینٹ میں پیش کیاجائے گا۔دوسری جانب قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا ۔ اجلاس ایجنڈے میں آئینی ترامیم شامل نہیں ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی عطائے شہریت ایکٹ1926میں مزیدترمیم کا بل پیش کریں گے اور اعظم نذیرتارڑصدر مملکت آصف علی زرداری کے پارلیمان کےدونوں ایوان سےخطاب پراظہارتشکرکی قرار داد پیش کریں گے۔ سینیٹ کا اجلاس آج دوپہرساڑھے 12بجے ہوگا جس کا 5 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا۔، سینیٹ کے آج کے اجلاس ایجنڈے میں بھی آئینی ترامیم شامل نہیں۔سینیٹ اجلاس میں پراپرٹیز مینجمنٹ ترمیمی بل2024 ، حکومتی ملکیتی اداروں کی مینجمنٹ ،گورننس سے متعلق ترمیمی بل ایجنڈے میں شامل ہیں۔
، سینیٹر انوشہ رحمان کی جانب سےدونوں بل پیش کئے جائیں گے۔گزشتہ روز کل قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے بعد مختصر ترین کارروائی کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات اور توجہ دلاو¿ نوٹس کو معطل کرنے کی تحریک پیش ہوئی جسے ایوان نے منظور کرلیا تھا۔



