اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ)نے بھی حکومت کی آئینی ترمیم کی مخالفت کا فیصلہ کرلیا،بی این پی مینگل نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ ججزسے متعلق کسی بھی حکومتی یا نجی آئینی ترمیمی بل کی حمایت نہ کی جائے،بلوچستان نیشنل پارٹی( مینگل )نے اپنی ہدایات میں مزید کہا ہے کہ سینیٹرز اپوزیشن الائنس کا حصہ ہیں۔
آئینی ترمیم کی مخالفت کی جائے گی اور کوئی بھی رکن پارلیمنٹ ایسے کسی بل کی حمایت نہ کرے اور اس بل کی مخالفت میں ووٹ دئیے جائیں۔بی این پی (مینگل)نے اپنے اراکین کو ان ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا کہا گیاتھا۔واضح رہے کہ گزشتہ روزجمعیت علماءاسلام (ف)کے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرز نے اپنے اراکین کو خط لکھا تھا جس میں حکومت کی مجوزہ آئینی ترمیم کیلئے ووٹ دینے سے روک دیاگیاتھا۔
جمعیت علماءاسلام (ف) نے ایوان بالا میں اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے متوقع آئینی ترامیم کے حوالے سے بڑا فیصلہ کیا تھا۔ جمعیت علماءاسلام نے مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنے اراکین سینیٹ کو کسی بھی قسم کے ووٹ سے فی الوقت روک دیا تھا۔سینیٹ میں جے یو آئی ف کے پارلیمانی لیڈر کامران مرتضیٰ کی جانب سے اراکین کے نام جاری خط میں کہا گیا تھا کہ ابھی آئینی ترمیم کے حوالے سے کچھ واضح نہیں ہے۔
لہٰذا پارٹی قیادت کے تحریری فیصلے تک کسی قسم کی ووٹنگ حصہ نہیں لیا جائے گا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اپنے تمام اراکین کو ہدایت کی تھی کہ جے یو آئی کے سینیٹرز دستور کے آرٹیکل 63 اے کے تحت پارٹی ڈسپلن کی پابندی کرتے ہوئے اس فیصلے پر ہر صورت عمل درآمد کریں۔ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا تھاکہ وہ کسی ادارے میں ایکسٹینشن کی حمایت نہیں کریں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم اپوزیشن میں ہیں اور رہیں گے۔ پارلیمنٹ ملک کا سپریم ترین ادارہ ہے اگر ایکسٹینشن بنتی ہے تو پھر سب سے زیادہ پارلیمنٹ کی بنتی ہے۔



