لاہور (نیشنل ٹائمز) صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور لاہور سمیت کئی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس ہوئے، دوپہر 12 بج کر 28 منٹ پر محسوس کیے جانے والے زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 7 ریکارڈ کی گئی، جس کی گہرائی 10 کلو میٹر تھی اور اس کا مرکز صوبہ پنجاب کے علاقہ ڈیرہ غازی خان کے قریب شادی والا میں تھا۔
بتایا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں فیصل آباد، شاہکوٹ، کھرڑیانوالہ، ساہیوال، چیچہ وطنی، بورے والا، پھولنگر، حجرہ شاہ مقیم اور سانگلہ ہل میں زلزلہ آیا، اس کے علاوہ ملتان، میانوالی، کمالیہ، خانیوال، بھلوال، چنیوٹ، حافظ آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گجرات، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، جھنگ، تلہ گنگ، چکوال، بھکر، ویہاڑی، راولپنڈی، سرگودھا، پنڈ دادن خان اور کندیاں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
معلوم ہوا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخواہ میں پشاور، شمالی وزیرستان، ڈی آئی خان، لکی مروت، سوات، شانگلہ، بونیر، لوئر دیر، ملاکنڈ، ٹانک اور چترال میں بھی زلزلہ آیا، اسی طرح مردان، مانسہرہ، ہری پور، ایبٹ آباد، چارسدہ، بٹگرام اور گردونواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور عوام کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر آگئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے، پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے، زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں، جس کی وجہ سے زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے، زلزلے کی یہ لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب پھیلتی ہیں، زلزلے ان علاقوں ميں زیادہ آتے ہیں جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں اور جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ان پلیٹوں کے رگڑنے یا ٹکرانے کے اثرات عام طور پر زمین کی سطح پر محسوس نہیں ہوتے لیکن اس کے نتیجے میں ان پلیٹوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے، جب یہ تناؤ تیزی سے خارج ہوتا ہے تو شدید لرزش پیدا ہوتی ہے جو جسے سائزمک ویوز یعنی زلزلے کی لہر کہتے ہیں، اس کے علاوہ زیادہ تر زلزلے فالٹ زون میں آتے ہیں جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی یا رگڑتی ہیں، ٹیکٹونک پلیٹیں وہ پتھریلی چٹانیں ہیں جن سے زمین کی باہر والی تہہ بنی ہوئی ہے۔



