اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پارلیمنٹ سے اراکین کی گرفتاری پر اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران کو طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کل رات کے واقعے پر آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی آپریشنز سید علی رضا کو فوری طور پر پارلیمنٹ ہاؤس طلب کیا ہے، سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ گیٹ پر جو کچھ ہوا اس پر خاموش نہیں رہیں گے، جو کچھ ہوا اس کو پارلیمنٹ پر تیسرا حملہ سمجھتاہوں، میں نے پارلیمنٹ گیٹ کی تمام فوٹیجز منگوائی ہیں کیوں کہ گزشتہ رات جو کچھ بھی ہوا اس پر یقینی طور پرایکشن لینا پڑے گا، ، گیٹ نمبر ایک، گیٹ نمر پانچ، کیبنٹ کی طرف والے گیٹ کی پارلیمنٹ کے اندر کی سب سی سی ٹی وی فوٹیجز منگوائی ہیں، فوٹیجز دیکھ کر ہی اس کی ذمہ داری ڈالنی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ گزشتہ رات پارلیمنٹ کے احاطے سے تحریک انصاف کے اراکین کی گرفتاری کے بعد آج جب قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کی زیر صدارت شروع ہوا تو حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان لفظی گرما گرمی دیکھی گئی اور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس موقع پر ایاز صادق نے کہا کہ میں اپنے آپ کو بدقسمت سمجھتا ہوں کیوں کہ 2014ء میں پہلی بار پارلیمنٹ میں حملہ ہوا، اس وقت میں نے اس جماعت کے خلاف خود ایف آئی آر کٹوائی تھی، اب بھی کل کے واقعے کے ذمے داروں پر مقدمہ درج کراؤں گا، اس کی میں خود ایف آئی آر کٹواؤں گا، علی محمد خان، سید نوید قمر، محمود خان اچکزئی، اعظم نذیر تارڑ اور دیگر جماعتوں کی پارلیمانی قیادت میرے چیمبر میں تشریف لائیں ہم بیٹھ کر اس معاملے پر بات کریں۔



