اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سیاسی لوگوں کی اہمیت ختم کی جارہی ہے، سیاسی جماعتوں اور سیاسی قائدین کو ملک کے لیے غیر ضروری سمجھنے سے بڑی حماقت کوئی نہیں، سیاستدانوں کو با اختیار بنائیں۔ قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ایک اہم مسئلہ ہے، اس پر بات چیت ہونی چاہیے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو بتائیں ان کے پیارے اس وقت کہاں ہیں؟ پارلیمنٹ سے درخواست ہے آگے بڑھیں اور ان سے گفتگو کی جائے، میں چاہتا ہوں لوگ افواج پاکستان پر اعتبار کریں لیکن جب ریاست ناکام ہو جاتی ہے تو ہم جا کر وہاں صورتحال کو کنٹرول کرتے ہیں، الیکشن سے پہلے میں افغانستان گیا وہاں باہمی تجارت، افغان مہاجرین پر بات چیت کی، میں افغانستان سے کامیاب ہو کر واپس لوٹا، ہم ذمہ داریاں کسی اور پر ڈال دیں تو اس طرح نہیں چلے گا۔
مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ کیا حکومت کے پاس فیصلوں کا اختیار ہے؟ کیا ان کے پاس فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے؟ یا اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر پارلیمان خود بات چیت کرے اور ملک کے اندر اضطراب کو ختم کرے؟ سب چیزیں اپنے اندر سمیٹنا اور سارے معاملات کے لیے فیصل آباد کا گھنٹہ گھر بن جانا یہ شاید ایک خواہش ہوسکتی ہے مگر مسئلے کا حل نہیں، ہم پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں یہ ہمارے مفادات کی جنگ نہیں، عالمی قوتیں اس کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک اور بہت سے معاملات کے سامنے رکاوٹیں کھڑی ہوگئی ہیں، ڈیرہ اسمعیل خان، لکی مروت کا علاقہ مسلح قوتوں کے قبضے میں ہے وہاں کوئی کام نہیں ہوسکتا، حالات کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ کچھ علاقوں میں آج سکولوں اور کالجوں میں پاکستان کا ترانہ نہیں پڑھا جاسکتا، پاکستان کا جھنڈا نہیں لہرایا جاسکتا یہاں تک صورتحال خراب ہوگئی ہے، سندھ میں ڈاکوؤں کا راج ہے، کچے کی صورتحال کو دیکھ کر پریشان ہیں۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف کا کہنا ہے کہ مہنگائی بڑھتی جارہی ہے، لوگوں کو روزگار نہیں دے پارہے، پاک پی ڈبلیو ڈی اور یوٹیلیٹی سٹور کو ختم کررہے ہیں، ہم اس طرح کے قوانین کو ایوان میں مسترد کریں گے، یہی سب دیکھ کر اختر مینگل نے استعفیٰ دیا ہے، آپ واضح ہدایت دیں کیوں کہ یہ ایوان مضطرب ہے، ہم یہاں ملک و قوم کی خدمت کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں، اس صورتحال میں ہمیں قدم اٹھانا چاہیے، ہم لڑیں، تنقید کریں اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے لیکن ملک کو ضرورت پڑی تو اپنا کردار نبھائیں گے۔



