اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پی ٹی آئی رہنماءعامر ڈوگرنے دعویٰ کیاہے کہ دو ہفتے پہلے وزیراعظم شہباز شریف استعفیٰ دے رہے تھے، بہت ساری چیزیں ن لیگ کے کنٹرول میں نہیںہیں ، نوازشریف کی بات کے تناظر میں دیکھیں سب سمجھ آ جائے گا،پیپلز پارٹی ہاتھ ہٹا لے تو حکومت ختم ہو جائے گی،ایک انٹرویو میں رہنماءپی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ہمارے دور حکومت میں کسی کو بھی جلسے یا جلوس کرنے سے نہیں روکا گیا تھا۔
لیکن عجیب منطق ہے کہ جماعت اسلامی کو دھرنے کی اجازت ہے۔ ہمیں جلسے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے رجیم چینج ہوئی ہے پاکستان دن بدن نیچے جا رہا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل رہنماءپی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے مذاکرات کرنے کی تردیدکی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی سے کسی بھی مذاکراتی عمل پر گفتگو نہیں ہوئی تھی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا تھاکہ تحریک انصاف کا کوئی رکن اسمبلی لیگی قیادت یا رہنماوں سے مذاکرات کیلئے رابطے میں نہیں تھے۔بیرسٹر گوہر نے کہا تھاکہ پی ٹی آئی نے نہ ہی مذاکرات کی کوئی آفر دی اور نہ ہی کوئی فیور مانگا ہے۔انہوں نے مزید کہا تھاکہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی سینئر قیادت نے ن لیگ سے کوئی مذاکرات کئے اور نہ ہی خواہش ہے۔
قومی اسمبلی کی کارروائی سے متعلق سپیکر سے مختلف معاملات پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔بطور اپوزیشن جماعت ہماری سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ہماری ملاقاتیں اوپن اور اسمبلی امور چلانے یا اپوزیشن کے معاملات پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔بیرسٹر گوہر کایہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے کبھی کسی ملاقات میں سپیکر قومی اسمبلی سے مذاکرات کی بات نہیں کی تھی۔۔ تحریک انصاف کے کسی وفد یا رکن نے الگ سے سپیکر کے ساتھ کبھی حکومت سے مذاکرات کے بارے میں بات نہیں کی تھی۔ہمارا حکومت سے براہ راست مذاکرات کا کوئی ارادہ بھی نہیں تھا۔ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔ پی ٹی آئی نے کبھی بھی سپیکر کو مذاکرات کیلئے دوبارہ آنے کی پیشکش بھی نہیں کی تھی۔



