اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا ہے کہ وہ کوئی ایکسٹینشن نہیں لیں گے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس نے ایکسٹینشن نہ لینے کی بات وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے کی قاضی فائز عیسٰی بڑے معزز چیف جسٹس ہیں.
انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس چیف جسٹس کی ایکسٹینشن کے لیے آئینی ترمیم کے نمبرز پورے نہیں ہیں نمبرز پورے ہوتے تو ترمیم کرنی چاہیے‘ آئینی ترمیم پارلیمنٹ کا استحقاق ہے‘ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آئینی ترمیم نہیں ہوسکتی‘ آئینی ترمیم جب ہوگی تو وہ دونوں ایوانوں سے الگ الگ ہوگی رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہیں ان کے ساتھ بھی احترام کا رشتہ ہے ہماری سلام دعا ہوتی رہنی چاہیے.
رانا ثنا اللہ نے دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک ایس ایچ او کی مار کے بیان کو سلپ آپ ٹنگ قرار دے دیا وزیر اعظم کے سیاسی مشیر نے بتایا کہ ادارے کی جانب سے جنرل (ر) فیض حمید سے متعلق بڑی وضاحت سے آگاہ کیا گیا فیض حمید پر اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوانے کے لیے پی ٹی آئی کو استعمال کرنے کا الزام لگتا رہا ہے اگر یہ الزام ہے تو پھر فیض حمید اکیلے یہ نہیں کرسکتے.
انہوں نے کہا کہ اس میں عمران خان ساتھ ہوں گے ہوسکتا ہے فیض حمید اور عمران خان میں رابطوں کے واٹس ایپ میسجز ہوں سینئر رہنما مسلم لیگ (ن) نے انکشاف کیا کہ فیض حمید کا مسلم لیگ (ن) کے بہت سے راہنماؤں سے اچھا تعلق رہا ہے فیض حمید نے آرمی کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی انہیں اس بات کا اندازہ تھا. راناثناءاللہ نے کہا کہ سابق آرمی چیف قمر باجوہ نے ہمارے سامنے ایکسٹینشن سے متعلق بات نہیں کی شہباز شریف نے بھی کبھی نہیں کہا کہ قمر باجوہ نے آکر ایکسٹینشن کا کہا ہو رانا ثنا اللہ کے مطابق نواز شریف سے قمر باجوہ کے سسر کی ملاقات نہیں ہوئی.



