اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)حکومت نے انٹرنیٹ پر موجود مواد کی مینجمنٹ کےلئے ویب مانیڑنگ سسٹم کی تنصیب کی باقاعدہ تصدیق کردی،پی ٹی اے نے ویب مانیٹرنگ سسٹم کے تحت آن لائن مواد بلاک کرنا شروع کردیا ،کابینہ ڈویژن نے قومی اسمبلی کو ویب مانیڑنگ سسٹم کی تنصیب سے تحریری طور پر آگاہ کردیا۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق پی ٹی اے نے انٹرنیٹ پر موجود مواد کی مینجمنٹ کیلئے ویب مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا ہے۔
کابینہ ڈویژن کا کہنا تھا کہ سسٹم نے پاکستان کے اندر ویب سائیٹس اور ایپلی کیشن بلاک کرنا شروع کردی ہیں۔پی ٹی اے نے اس سسٹم کے ذریعے 2369 یو آر ایل بلاک کردئیے ہیں جبکہ ڈبلیو ایم ایس سسٹم کے تحت 183 موبائل اپلیکشنز بھی بلاک کی گئی ہیں۔پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ بلاک کی گئیں ویب سائٹس شہریوں کا ڈیٹا ظاہر کرنے میں ملوث تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے پی ٹی اے کا ڈبلیو ایم ایس سسٹم ڈیپ پیکٹ انسپکشن کا حامل ہے یہ سسٹم گیٹ وے لیول پر انٹرنیٹ ٹریفک کنٹرول کرنے میں مددگار ہے۔
اس نظام کے ذریعے اداروں کیخلاف پروپیگنڈہ کرنیوالی آئی ڈیز کی نشاندہی کی گئی۔نظام کے ذریعے پی ٹی اے مواد بلاکنگ میں خود کفیل ہوگیا ہے۔خیال رہے کہ دو روز قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہاتھا کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز ’اکتوبر کے اوائل‘ تک سست رہنے کی توقع ہے کیوں کہ انٹرنیٹ میں سست روی کی وجہ بننے والی سب میرین کیبل کی مرمت اکتوبر تک کی جائے گی۔
بزنس کمیونٹی اور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز (آئی ایس پیز) نے الزام لگایا تھا کہ حکومت کی جانب سے ’فائر وال‘ سمیت انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی کی کوششوں کی وجہ سے ڈیجیٹل سروسز میں سست روی ریکارڈ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں معاشی نقصان ہو رہا تھا۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر شزہ فاطمہ نے تصدیق کی تھی کہ حکومت سائبر سیکیورٹی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے اپنے ’ویب مینجمنٹ سسٹم‘ کو اپ گریڈ کر رہی ہے۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کو ’کنٹرول‘ کرنے کی خبروں کی تردید کی تھی۔ پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی سست روی کی وجہ سب میرین کیبل کی خرابی کو قرار دیا تھااور اس خدشے کو بھی مسترد کیا ہے کہ ریاست کی جانب سے فائر وال لگایا جارہا تھا۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا تھاکہ انٹرنیٹ سست روی کی وجہ دو سب میرین کیبلز ہیں، جن میں سے ایک کی مرمت کا کام ابھی باقی ہے۔
ملک بھر میں جاری انٹرنیٹ کی سست روی بنیادی طور پر پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر جوڑنے والی 7 عالمی سب میرین کیبلز میں سے دو (ایس ایم ڈبلیو-4، اے اے ای-ون) میں خرابی کی وجہ سے تھا۔ٹیلی کام اتھارٹی کے مطابق ایس ایم ڈبلیو-4 سب میرین کیبل میں خرابی اکتوبر 2024 کے اوائل تک ٹھیک ہونے کا امکان تھا۔اس حوالے سے پی ٹی اے کامزید کہنا تھا کہ سب میرین کیبل اے اے ای-ون کی مرمت کی گئی تھی جس سے انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری دیکھی جائے گی۔گزشتہ ہفتہ پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمٰن نے بھی کہا تھا کہ سب میرین کیبل کو 27 اگست تک ٹھیک کر دیا جائے گا۔



