اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءسینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ حکومت 2یا تین ہفتوں کی مہمان ہے،ایوان میں کوئی بھی وزیر نہیں ہے ،حکومت چند دنوں کی مہمان ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ لوگ کام کرنا چھوڑ دیں،پینل آف چیئر عرفان صدیقی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا جس دوران اظہار خیال کرتے ہوئے رہنماءپی ٹی آئی نے مزید کہا کہ وزرا کی کرسیاں خالی ہیں، ہم صرف دیواروں سے بات کریں گے؟ کوئی وزیرتوہو بات سننے کیلئے، اگرآپ سمجھتے ہیں کہ ہم کورم کی نشاندہی کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔
حکومت کسی کام بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے ۔ حکومت کو پتہ نہیں کس بات کی جلدی ہے یہ ہر کام بغیر سوچے سمجھے کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
قانون سازی کرتے وقت کسی سے پوچھنا گوارہ بھی نہیں کرتے۔حکومت کو چاہئے کہ کسی بھی قانون سازی سے پہلے اسے ایوان میں زیر بحث لایا جائے ۔ حکومت ہر معاملے پر ایوان کو پس پشت ڈالنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم کورم کی نشاندہی نہیں کریں گے اوریہی بیٹھیں گے۔
بعد ازاں سینیٹر عرفان صدیقی نے جواب دیا کہ ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ صبح کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے، آدھے گھنٹے تک وزرا آ جائیں گے۔کچھ ممبران بلوچستان پر بات کرنا چاہتے ہیں ابھی اس پر بحث کر لیتے ہیں۔اس موقع پر سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اس ایوان میں ایک شخص کے معاملہ اٹھانے پر ایوان میں بحث ہوتی رہی کہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔
بحث اس لئے ہوئی کہ اس رکن کو توہین عدالت کا نوٹس دیا گیا۔ اس رکن نے تین دن بعد جاکر سپریم کورٹ میں معافی مانگ لی۔بعدازاں وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جو ریاست کے خلاف بندوق اٹھائے گا، اس کا بندوست کیا جائے گا۔ ایوان بالا سینیٹ کے اجلاس کے دوران اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، کل وزیراعظم کوئٹہ میں موجود تھے، ان کی تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات ہوئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ جو لوگ ریاست کو مانتے ہیں، ان کو سر پر بیٹھائے گے، جو لوگ ریاست کو تسلیم نہیں کرتے اور جو بندوق اٹھاتے ہیں وہ دہشت گرد ہیں اور ان لوگوں کا بندوست کریں گے، یہ واضح کر دوں جو بندوق اٹھائے گا، اس کا بندوست کیا جائے گا۔



