اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف کی کسی آرمی چیف کے ساتھ کوئی محاذ آرائی نہیں ہوئی، محاذ آرائی کا آغاز ہمیشہ دوسری طرف سے ہوا،بس نوازشریف کو ایک علامت بنا دیا گیا کہ ان کی بنتی نہیں ، محترمہ بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار بھٹو کی کیوں نہیں بنی ، کیا وہ بھی نوازشریف تھے۔
انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف سیاست میں ایک اہم اور مثبت کردار ادا کرنے جارہے ہیں ،میاں نوازشریف اور شہبازشریف کے درمیان اختلافات کی باتیں پہلے بھی ہوتی رہیں، کہا گیا، م بنے گی ش بنے گی، شہبازشریف کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ میاں نوازشریف کا تھا، شہبازشریف کے جو کام ذمے لگتا ہے پھر وہ اس میں لگ جاتے ہیں۔
شہبازشریف اور سینئر لیڈرشپ نے شہبازشریف کی مصروفیت دیکھ کر کہا کہ نوازشریف کو پارٹی کی صدارت سنبھالنی چاہیئے۔یہ پارٹی کا مفاد دیکھ کر سب کچھ کیا گیا۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے بعد نوازشریف واحد لیڈر ہیں جو سیاسی بصیرت اور تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف، جنرل راحیل شریف اور جنرل باجوہ ان کے ساتھ میاں نوازشریف کی کوئی محاذ آرائی نہیں ہوئی۔
محاذ آرائی کا آغاز ہمیشہ دوسری طرف سے ہوا، میاں نوازشریف تھوڑا غم وغصہ کرتے تھے، پھر راستہ دے دیتے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی آرمی چیف کے ساتھ کیوں نہیں بنی؟ اس سے پیچھے چلے جائیں، ذوالفقار بھٹو کی کیوں نہیں بنی ، کیا وہ بھی نوازشریف تھے؟بس نوازشریف کو ایک علامت بنا دیا گیا کہ شاید ان کی بنتی نہیں ہے۔ پورا پانامہ فیصلہ پڑھیں تو اس میں بغض وعناد کے سوا کچھ بھی نہیں، جنرل راحیل شریف کرپشن کو ہائی لائٹ کرنے کے ایشو بنا رہے تھے،ایک تقریب میں بھی ایشو اٹھایا تھا۔



