لبرل انتہا پسندی کو شٹ اپ کال ۔۔شاباش عمران خان

خامہ اثر : قاضی عبدالقدیر خاموش
اقتدار کے 3برس مکمل ہورہے ہیں مگر حکمران ابھی تک وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں ، جو پہلے روزسے ہی ان کا طرۃ امتیا زتھا ،وزرا ء کے باہمی جھگڑوں سے لے کر کار اقتدار میں غلط بیانی پر اصرار ،عملی طور طپر کچھ بغیر صرف پریس کانفرنس اور بیان دینے پر اکتفا سے پچھلی حکومتوں کے تمام پالیسی سازوں کو گود میں بٹھا کر اپنی ہر غلطی پر پچھلی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرانے تک کچھ بھی تو نہیںبدلا ۔ مہنگائی پر کنٹرول ہے نہ معیشت کی سمجھ ، امن وامان کی کچھ خبر ہے نہ سیاسی رواداری کا کچھ خیال بقول غالب کہ :
رَو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
اندرون ملک تمام تر ناکامیوں کی داستانوں کے باوجود عمران خان کی ایک بات قابل تعریف ہے کہ غیرت دینی اور حمیت ملی کے معاملہ میں پوری طرح سے باخبر بھی ہیں اور جرات مند بھی ، کشمیر کے مسئلہ پر بات کرنی ہو ، یا فلسطین پر اسرائیلی جارحیت ہو ،وہ اہل مغرب کو ان کی زبان میں اور انہی کے میدان میں للکارتے ہیں ، جیسے کہ ان تازہ ترین معاملہ کینیڈا میں ایک پاکستانی خاندان کا اسلام دشمنی کی وجہ سے قتل ہے۔ شبہ نہیں کہ کینیڈین وزیر اعظم اور دیگر حکام نے اس پر شدید رد عمل دیا ہے ،اور اس واقعہ کو دہشت گردی قرار دیا ہے ، لیکن اس ملمع کاری سے عمران خان متاثر نہیں ہوئے ، انہوں نے ایک غیرت مند حکمران کا رویہ اختیار کرتے ہوئے نہ صرف مغرب کو اسلامو فوبیا پر آڑےہاتھوں لیا ہے ،بلکہ کییڈین وزیر اعظم کی لبرل انتہا پسندی کو بھی بے نقاب کیا ہے ۔ کینیڈاکے قومی ٹی وی کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (سی بی سی) کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ’’ مغربی ممالک پر لازم ہے کہ اسلاموفوبیا کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کریں۔سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں اور انتہاپسندی کے خلاف کریک ڈاؤن کریں، نفرت پھیلانے والی ویب سائٹس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائی ہونی چاہیے، بعض بین الاقوامی رہنما اور مغربی ممالک کی قیادت اس معاملے کو نہیں سمجھ رہے۔آزادی اظہار رائے کی حد وہاں تک ہے جہاں تک دوسرے انسان اس سے مجروح نہ ہوں۔عمران خان نے یہ بتانے سے بھی گریز نہیں کیا کہ انہوںنے لندن انٹاریو میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر کینیڈ کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سے بات کی ہے،اور انہیں بتایا ہے کہ کینیڈا کے بعض قوانین بھی اسلاموفوبیا کا باعث بن رہے ہیں ، اساتذہ و پولیس افسروں پر اپنی مذہبی علامات پہننے پر پابندی کے قانون بھی سیکولر انتہاپسندی کی ایک شکل ہے جو مسلمانوں کے خلاف عدم برداشت کا سبب بنتی ہے۔ اگر عالمی رہنما فیصلہ کریں ایکشن لیں کا تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘‘
اسلامو فوبیا دیار مغرب کا اک ایسا ناسور ہے جو دنیا کے امن کو برباد کر رہا ہے ،فرانس کے صدر سمیت کئی مغربی ممالک کی قیادت کی جانب سے اس فتنہ کے لئے کہیں خاموش، کہیں علانیہ حمائت اور سرپرستی عالمی امن کی بنیادوں میں بم رکھنے سے کسی طور بھی کم نہیں ہے ۔المیہ یہ ہے کہ مسلم دنیا جو اس دہشت گردی کا براہ راست شکار ہے وہ متحد ہی نہیں ، زبانی بیانی حدتک سب شیرہیں لیکن عمل کا معاملہ یہ ہے کہ گزشتہ برس نومبر 2020میں نائجیر میں ہونے والے او آئی سی کے وزراء خارجہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسلامو فوبیا اور توہین رسالت کے خلاف او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی ، لیکن آج تک اس حوالہ سے کوئی عملی اقدام سامنے نہیںآیا ۔عالم اسلام کی خاموشی بلکہ بے حسی کا نتیجہ ہے کہ مغربی ممالک میں اسلامو فوبیاوبا کی طرح پھیل رہا ہے ، وہاں کے بعض حکمران اپنے ملک و معاشرے کو بدنامی سے بچانے کی خاطر ہمدردانہ رویہ اختیار کرلیں تو پوراعالم اسلام ان کے گن گانےمیں یوں مصروف ہوتا ہے کہ یاد بھی نہیں رہتا کہ اسی کینیڈا میں مسلمانوں کو دوران ڈیوٹی مذہبی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی اسی حکومت نے لگا رکھی ہے ، جو کہ بذات خود اسلامو فوبیا کے زمرے میں آنے والا ایک اقدام ہے ۔کینیڈا کے حالیہ واقعہ کو ہی لے لیا جائے تو اس پر کینیڈین قیادت کی جانب سے رد عمل کے سوا مغربی دنیا نے کیاطرز عمل اختیار کیا ہے ؟ مکمل خاموشی۔۔۔ یعنی بے حسی اور قاتل کی ایک طرح سےخاموش حمائت ، اس کے نتیجہ میں اسلامو فوبیا کی اس نفرت انگیز مہم کو مغرب میں فروغ نہیں ملے گا تو کیا ہوگا ؟کون نہیں جانتا کہ اگر کوئی مسلمان صرف کسی پر پتھر بھی اچھال دیتا تو طوفان آجانا تھا ۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
وزیر اعظم نے درست نشاندہی کی ہے کہ مغربی قیادت کی دوغلی پالیسی اور اسلاموفوبیا کی درپردہ حمائت ہی اس کے فروغ کی اصل وجہ بھی ہے ۔لبرل انتہا پسندی کی کوکھ سے تولد ہونے والا اسلامو فوبیا اسی طرح دہشت گردی کا عمل ہے جیسے داعش یاالقاعدہ کے حملے۔ ،مغرب میں ہونے والی یہ وارداتیں داعش جیسے دہشت گردوں کو نہ صرف ان کی وارداتوں کے لئے جواز فراہم کرتی ہیں بلکہ انہی کے رد عمل میں وہ لوگوں کو ورغلانے میں بھی کامیاب رہتے ہیں ۔ مغربی دنیا اگر واقعی امن چاہتی ہے ، وہ اگر حقیقتاً بین المذاہب ہم آہنگی کے علمبردار ہیں ، مساوات انسانی اور حقوق انسانی سے ان کا کوئی تعلق ہے؟ تو انہیں لازماً اسلامو فوبیا کے خلاف اسی طرح سے بروئے کار آنا ہوگا جس طرح سے وہ یہودیوں کی توہین پر سامنے آتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے درست کہا کہ مغربی ممالک سےآپریٹ ہونےو الی ویب سائٹس اسلامو فوبیا پھیلا رہی ہیں ۔ یہ کونسی آزادی اظہار ہے کہ مسلمانوں کو مسلسل ہدف بنایا جائے اور اشتعال دلایا جائے تو یہ جائز ہے ، جبکہ کشمیر کا نام لینا ، فلسطینیوں پر مظالم شیئر کرنا ،یہودیوں پر سوال اٹھاناجرم بلکہ ناممکن عمل بنا دیا گیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو مغربی حکومتوں کا مسلمانوں کے خلاف یہی امتیازی رویہ اسلامو فوبیا کی بنیا د بن رہا ہے ۔ محض چند انتہا پسند گروپس ہی مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں ، مغربی ممالک کا ہر وہ لیڈرا ور حکمران اسلامو فوبیا کا ذمہ دار ہے جو مسلمانوں کے حوالہ سے امتیازی سلوک کرتا ہے ، یا امتیازی قانون سازی کی حمائت کرتا ہے ۔ جب تک مغربی ممالک میں مسلم دشمن عناصر کے خلاف کریک ڈائون نہیں ہوتا ، مجرموں کو آزادی اظہار کے ڈھونگ میں چھپانے کا عمل بند نہیں ہوتا ،اسلامو فوبیا پر کنٹرول ممکن نہیں ہے بلکہ خدشہ ہے کہ دوسری جانب سے اگر کوئی مشتعل ہوگیا تو بات بڑھ ہی نہ جائے ۔ وزیر اعظم نے کارروائی کا مطالبہ کرکےدرست اقدام کیا ، لیکن صرف مطالبہ کافی نہیں ہے ، اس سے آگے بھی کچھ مقامات آتے ہیں ،کچھ راستے، کچھ منزلیں اس سے آگے بھی ہیں، قدم جو اٹھائے ہیں تو منزل پر نظر ہونی چاہئے ۔ اب حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملہ کو پوری قوت سے اٹھائے اور عالمی برادری سے پوری جرات کے ساتھ اس معاملہ میں کریک ڈائون کا مطالبہ کیا جائے ، عالم اسلام کو اس پر متفق کرنے کی کوشش ضرور کی جائے لیکن اگر کوئی نہیں آتا تو پاکستان کو کم ازکم یہ معاملہ پوری شدت سے اٹھانا چاہئے ۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
مقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گے خدا تو دوست ہے دشمن ہزار راہ میں ہے
تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل نہ ٹھہر آتشؔ گل مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے



  تازہ ترین   
پاکستان کا امن مشن ناکام نہیں ہوا، بھارت ہمارے ساتھ اپنے تعلق کا فیصلہ کر لے: عراقچی
صدر شی ایران کے جوہری ہتھیار نہ رکھنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر متفق ہیں: ٹرمپ
ایران کیخلاف جنگ کا کوئی جواز نہیں، بحری راستے جلد کھلنے چاہئیں: چین
سینیٹ نے مفت اور لازمی تعلیم کے ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی
آئی ایم ایف کی پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد، گیس، بجلی کے نرخ میں تبدیلی شامل
سعودیہ کی مشرق وسطیٰ کے ممالک اور ایران کے درمیان عدم جارحیت معاہدے کی تجویز
چین آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس کا مخالف، ہمارا مؤقف بھی یہی ہے: مارکو روبیو
ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، دفاع کیلئے لڑنے کو تیار ہیں: عباس عراقچی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر