واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کی زمینی تجارتی گزرگاہوں اور بحیرہ کیسپین کے راستے سامان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے نئی ٹاسک فورس آئرن گیٹ قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ٹاسک فورس کے قیام کی ہدایت کی ہے، جس کا بنیادی مقصد ایران کو جدید ہتھیاروں، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی اور پابندیوں کے شکار سامان کی ترسیل روکنا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ٹاسک فورس آئرن گیٹ ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپین کے راستے سامان کی نقل و حرکت کی نگرانی اور اسے محدود کرنے کے لیے کام کرے گی۔
نئی ٹاسک فورس میں تقریباً 20 سویلین اور فوجی اہلکار شامل ہوں گے، جبکہ اس کا ہیڈکوارٹر امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں قائم کیا گیا ہے۔
سینیٹ کام کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس امریکی حکومت کے دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ ایران کے فوجی ذخائر دوبارہ بھرنے کے امکانات محدود کیے جاسکیں اور ایران کو جدید فوجی سازوسامان کی فراہمی روکی جاسکے، ایران کی غیر قانونی آمدن کے ذرائع محدود کرنا بھی ٹاسک فورس کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
دوسری جانب ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی حکومتی اداروں کے درمیان تعاون بڑھا کر ایران کو فوجی ذخائر دوبارہ بھرنے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی خام تیل کی برآمدات رک چکی ہیں۔



