ڈھاکہ(نیشنل ٹائمز) بنگلہ دیشی حکومت نے گارمنٹس ورکرز کی کم از کم اجرت پر نظرثانی کے لیے نیا بورڈ قائم کردیا، تاہم ڈھاکہ کے صنعتی علاقوں میں ہزاروں مزدوروں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔
اتوار کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس پر پولیس نے آنسو گیس اور ساؤنڈ گرینیڈز کا استعمال کیا،احتجاج کے باعث گارمنٹس صنعت کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور متعدد فیکٹریاں بند ہیں۔ وزیر محنت عارف الحق چوہدری کے مطابق بورڈ میں حکومتی نمائندوں، مزدور رہنماؤں اور فیکٹری مالکان کو شامل کیا گیا ہے ۔ مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور گھریلو اخراجات میں اضافے کے باعث موجودہ ماہانہ اجرت 13 ہزار ٹکا ناکافی ہے ۔ مزدوروں نے کم از کم اجرت بڑھا کر 30 ہزار ٹکا سے زائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔



