چین کی سمارٹ گاڑیاں آزمائشی میدان سے نکل کر تجارتی مسابقت میں داخل

بیجنگ (شِنہوا) چین میں سمارٹ گاڑیوں کے نئے ماڈلز اور ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ یہ گاڑیاں آزمائش کے مرحلے سے نکل کر بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال میں آ رہی ہیں، جس سے ذہین اور منسلک گاڑیوں (آئی سی وی) کی صنعت کو فروغ مل رہا ہے۔
صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق چین کی آئی سی وی صنعت اب ٹیکنالوجی کی آزمائش سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے پر تجارتی مسابقت کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس مرحلے پر کاروباری کامیابی، فی گاڑی لاگت اور ڈیٹا سے متعلق ضوابط کی پابندی منڈی میں کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرنے والے اہم عوامل بن گئے ہیں۔
رواں سال 16 اکتوبر تک بی اے آئی سی موٹر کی آرک فوکس الفا ایس (لیول تھری) گاڑیوں کے بیڑے نے سڑکوں پر مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ کلومیٹر سے زیادہ کا سفر مکمل کر لیا تھا۔
یہ ماڈل ان دو ابتدائی گاڑیوں میں شامل ہے جنہیں دسمبر 2025 میں چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم آئی آئی ٹی) نے لیول تھری کی مشروط خودکار ڈرائیونگ کے لئے مصنوعات کی منظوری دی تھی۔ اس منظوری سے چین میں لیول تھری خودکار ڈرائیونگ کی کوششوں نے آزمائشی مراکز سے نکل کر سڑکوں پر عملی آزمائش کے مرحلے میں قدم رکھا۔
لیول تھری یا مشروط خودکار ڈرائیونگ کے تحت گاڑیاں خودکار نظام کے ذریعے ڈرائیونگ کے مختلف کام انجام دے سکتی ہیں تاہم ضرورت پڑنے پر کنٹرول سنبھالنے کے لئے انسانی ڈرائیور کا تیار رہنا ضروری ہوتا ہے۔
جنوری 2026 میں ان گاڑیوں نے مخصوص راستوں پر بڑے پیمانے پر سڑکوں پر آزمائشی سفر شروع کیا جن میں بیجنگ داشنگ ایئرپورٹ ایکسپریس وے بھی شامل ہے۔
سڑکوں پر ٹریفک کی حقیقی صورت حال کے دوران یہ گاڑیاں مسلسل ڈیٹا جمع کر رہی ہیں۔ اس میں دوسری گاڑیوں کا اچانک راستہ تبدیل کرکے سامنے آنا اور ٹریفک کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ جیسے پیچیدہ حالات شامل ہیں۔ اس ڈیٹا کی مدد سے گاڑیوں کے ماحول کو سمجھنے، فیصلے کرنے اور گاڑیوں و سڑکوں کے درمیان رابطے کی صلاحیتوں کو بار بار جانچا جا رہا ہے۔
سڑکوں پر عملی آزمائش کے ذریعے سمارٹ گاڑیوں کے نئے ماڈلز کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ چین کی بڑی آٹو کمپنیوں نے نئی ٹیکنالوجی کو عملی استعمال میں لانا بھی شروع کر دیا ہے۔ اس طرح ملک کی گاڑیوں کی صنعت محض بڑے پیمانے پر پیداوار کے فائدے سے آگے بڑھ کر بنیادی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے۔
یہ آٹو کمپنیاں گاڑیوں کے مختلف نظاموں کو یکجا کرنے، پاور بیٹریوں اور سمارٹ کاک پٹ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر چکی ہیں۔ ڈرائیونگ میں معاونت فراہم کرنے والی مختلف خصوصیات بھی تیزی سے عام ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سمارٹ ڈرائیونگ چپس، تیز رفتار چارجنگ، گاڑیوں کے ارتعاش کو کم کرنے اور فوری مواصلاتی رابطے کی ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں بھی اہم پیش رفت ہو رہی ہے۔



  تازہ ترین   
ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے ہم محتاط انداز میں پر امید ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
سکیورٹی خدشات، سعودی عرب میں امریکی مشن نے نیا الرٹ جاری کر دیا
پٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا
امریکا کی یوکرین کو اربوں ڈالر کے 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری
وزیراعظم کا گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کا حکم
پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان عدالتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط
سنگاپور کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
قومی اسمبلی سے انتخابی اصلاحاتی کمیٹی منظور، نوٹیفکیشن جلد جاری ہو گا: طارق فضل





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر