کردار کشی کی سیاست اور صحافت کا امتحان اصل حقاٸق جانے بغیر الزام تراشی کی سیاست اور صحافت اب ایک کاروبار بن چکا ہے کوٸی پوچھنے والا نہیں الزام لگاو بغیر ثبوتوں کے پھر واویلا مچانا شروع کردیں یہ وطیرہ اب ماشاءاللہ صحافت کا بیس سے پچیس سال کا تجربہ رکھنے والے بیشتر صحافی کرتے ہیں ایسے افراد صحافی کم سنیاسی باوے زیادہ لگتے ہیں اب اصل مدےکی جانب أتے ہیں اسلام آباد کا ایف نائن پارک محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ شہری زندگی کی وہ خوب صورت علامت ہے جہاں درختوں کی چھاؤں میں انسان کو سکون میسر آتا ہے اور فطرت کی آغوش میں شہر کی ہنگامہ خیزی سے چند لمحوں کی نجات ملتی ہے۔ ایسے مقام کی حفاظت ہر شہری کی خواہش بھی ہے اور اجتماعی ذمہ داری بھی۔ چنانچہ جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بارہا یہ واضح کر چکے ہوں کہ ایف نائن پارک کا کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا بلکہ خالی مقامات پر مزید پودے لگائے جائیں گے اور شہریوں کی سہولت کے لیے اضافی اقدامات کیے جائیں گے تو پھر اس معاملے کو سنسنی خیزی کی نذر کرنے کے بجائے حقائق کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ ان کا یہ اعلان بھی سامنے آ چکا ہے کہ ترقیاتی کاموں کے دوران درختوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے گی اور جہاں منتقلی ناگزیر ہو وہاں انہیں دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔ مزید برآں اسلام آباد میں موجودہ پارکوں کی دیکھ بھال کے ساتھ نئے پارک اور سبز مقامات قائم کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔ ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا صحافت کا فرض عوام کو مصدقہ معلومات فراہم کرنا ہے یا ایک بیان کو نظر انداز کرکے خدشات کو اس انداز میں پیش کرنا ہے کہ گویا کسی شہر کی سبز فضا پر قیامت ٹوٹنے والی ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے محسن نقوی کے خلاف جس نوعیت کی تنقید اور سوشل میڈیا مہم دیکھنے میں آ رہی ہے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بالخصوص اس وقت سے جب انہوں نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور موجودہ نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ ان کی گفتگو کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر انتظامی سہولتیں میسر آنی چاہییں اور ایسے انتظامی مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے جو شہریوں کو بنیادی خدمات کے حصول میں دشواری سے دوچار کرتے ہیں۔ انتظامی ڈھانچے کی اصلاح پر اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس کے فوائد اور نقصانات پر مدلل بحث بھی ہونی چاہیے اور اس امر کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کس حد تک قابل عمل ہوں گے۔ لیکن کسی سیاسی یا انتظامی تجویز سے اختلاف کو ذاتی عناد میں تبدیل کر دینا اور پھر اس اختلاف کو کردار کشی کی بنیاد بنا لینا کسی مہذب سیاسی اور صحافتی روایت کے شایان شان نہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اختلاف رائے کا معیار اس قدر پست ہوتا جا رہا ہے کہ دلیل کی جگہ تمسخر اور تحقیق کی جگہ الزام نے لے لی ہے۔ بیرون ملک مقیم بعض ایسے یوٹیوبرز بھی ہیں جن کے بارے میں پاکستان میں مختلف اعتراضات اٹھائے جاتے رہے ہیں اور جو محسن نقوی کے خلاف مسلسل سخت زبان استعمال کرتے ہیں۔ کسی شخص کو حکومت پر تنقید کا حق حاصل ہے اور صحافت یا تبصرے کے نام پر حکومتی عہدے داروں سے سوال کرنا بھی ایک جائز عمل ہے۔ لیکن یہ حق کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات کو حقیقت بنا کر پیش کرے یا کسی کی ذات کو نشانہ بنانے کے لیے واقعات کو من پسند رنگ دے۔ تنقید اور کردار کشی کے درمیان ایک واضح لکیر ہوتی ہے۔ تنقید کا مقصد اصلاح ہوتا ہے جبکہ کردار کشی کا حاصل کسی شخص کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں بعض اوقات ان دونوں کے درمیان فرق دانستہ طور پر مٹا دیا جاتا ہے۔
زیادہ تکلیف دہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایسے رویے ان افراد کی طرف سے سامنے آئیں جو خود کو دو دہائیوں یا تین دہائیوں کے صحافتی تجربے کا حامل قرار دیتے ہیں۔ تجربہ بلاشبہ ایک قیمتی اثاثہ ہے مگر تجربے کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے ساتھ دیانت داری اور تحقیق بھی موجود ہو۔ محض یہ کہہ دینا کہ ہم نے تیس برس صحافت کی ہے کسی الزام کو سچ ثابت نہیں کر دیتا۔ صحافت میں ساکھ عمر کے ہندسوں سے نہیں بلکہ خبر کی صحت اور موقف کی دیانت سے قائم ہوتی ہے۔ کوئی نوآموز صحافی بھی اگر تحقیق کے ساتھ بات کرے تو اس کی بات معتبر ہو سکتی ہے اور کوئی کہنہ مشق صحافی بھی اگر ثبوت کے بغیر الزام تراشی کرے تو اس کا طویل تجربہ اس کی دلیل نہیں بن سکتا۔ صحافت کوئی ایسا منصب نہیں جس میں ماضی کی خدمات کا حوالہ دے کر حال کی ہر لغزش کو جائز قرار دے دیا جائے۔
ایف نائن پارک کے معاملے میں بھی یہی اصول پیش نظر رہنا چاہیے۔ اگر کسی صحافی کو یہ خدشہ ہے کہ پارک کے درخت کاٹے جائیں گے یا اس کی اصل ساخت متاثر ہوگی تو اس کا فرض ہے کہ متعلقہ منصوبے کی تفصیلات حاصل کرے۔ سرکاری دستاویزات دیکھے۔ متعلقہ حکام سے سوال کرے اور عوام کے سامنے ایسے شواہد پیش کرے جن کی بنیاد پر اس کے خدشات کو پرکھا جا سکے۔ اگر منصوبے میں واقعی کوئی ایسا پہلو موجود ہو جو ماحول یا شہری مفاد کے خلاف جاتا ہو تو اس کی نشان دہی نہ صرف صحافی کا حق بلکہ اس کی ذمہ داری ہے۔ مگر جب متعلقہ وزیر بار بار درخت محفوظ رکھنے اور مزید شجرکاری کی یقین دہانی کرا چکے ہوں تو ان بیانات کو نظر انداز کرکے پہلے ہی پارک کی تباہی کا فیصلہ سنا دینا کہاں کی صحافتی دیانت ہے۔ محسن نقوی کے بیان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس اختلاف کے لیے بھی ٹھوس شواہد درکار ہیں۔ محض اندیشوں کو قطعی حقیقت بنا کر پیش کرنا عوامی شعور کی خدمت نہیں بلکہ عوامی رائے کو غیر ضروری اشتعال کی طرف دھکیلنا ہے۔
محسن نقوی کی کارکردگی کا جائزہ بھی محض ایک متنازع معاملے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ وزارت داخلہ کے تحت نادرا اور پاسپورٹ دفاتر سمیت مختلف عوامی خدمات کے مراکز کی کارکردگی شہریوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ محسن نقوی کے اچانک اور رینڈم دوروں کا مقصد بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ دفتری معاملات کو قریب سے دیکھا جائے اور شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کا اندازہ براہ راست لگایا جائے۔ ایسے دوروں میں عملے سے ملاقات اور شہریوں کی شکایات سننے کا طریقہ کار انتظامی نگرانی کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہوائی اڈوں پر انتظامات کا جائزہ لینا اور مسافروں کو درپیش مسائل کی طرف توجہ دینا بھی وزارت داخلہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ تاہم کسی بھی وزیر کی کارکردگی کا حتمی فیصلہ محض دوروں یا اعلانات سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس بات سے ہونا چاہیے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں عوام کو کتنی سہولت ملی اور نظام میں کتنی بہتری آئی۔ یہی وہ پیمانہ ہے جس پر محسن نقوی سمیت ہر حکومتی عہدے دار کو پرکھا جانا چاہیے۔
اسی طرح ملک میں امن و امان کی صورت حال ایک مستقل اور سنگین چیلنج ہے۔ دہشت گردی کے خطرات اور داخلی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کو مربوط حکمت عملی اختیار کرنا پڑتی ہے۔ وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بہتر بنائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ اس شعبے میں اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ بھی حقائق اور نتائج کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ جہاں کامیابی حاصل ہوئی ہو وہاں اسے تسلیم کیا جائے اور جہاں ناکامی یا کوتاہی سامنے آئے وہاں بلاامتیاز سوال اٹھایا جائے۔ یہی غیر جانب دارانہ طرز عمل عوامی مفاد کا تقاضا ہے۔ کسی وزیر کی ہر کارروائی کو کامیابی قرار دینا بھی درست نہیں اور اس کی ہر کوشش کو بدنیتی سے تعبیر کرنا بھی انصاف نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ بعض حلقوں میں سیاسی اختلاف اس حد تک ذاتی صورت اختیار کر لیتا ہے کہ ہر اقدام میں سازش تلاش کی جانے لگتی ہے۔ اگر کسی وزیر کا کسی سیاسی جماعت یا اس کے رہنماؤں سے اختلاف ہو تو اس اختلاف کو اس کی ہر پالیسی کے خلاف محاذ آرائی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح کسی صحافی کے سیاسی رجحانات یا سابقہ طرز عمل کی بنیاد پر اس کے ہر سوال کو بدنیتی پر مبنی قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ افراد کے ارادوں پر فیصلے صادر کرنے کے بجائے ان کے بیانات اور دعووں کو شواہد کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔ میں کسی فرد کا نام لے کر الزام عائد کرنا مناسب نہیں سمجھتا کیونکہ صحافت میں شخصیات سے زیادہ اصول اہم ہوتے ہیں۔ البتہ یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ کیا کسی کو اپنے طویل تجربے اور عوامی مقبولیت کی بنیاد پر یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ ثبوت کے بغیر کسی دوسرے شخص کی ساکھ کو نشانہ بنائے۔ ہرگز نہیں۔ قانون اور اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ الزام لگانے والا اپنے دعوے کے حق میں قابل اعتماد بنیاد بھی پیش کرے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کی صحافت پہلے ہی کئی دشواریوں سے دوچار ہے۔ معاشی دباؤ اور ادارتی مشکلات کے علاوہ صحافیوں کی سلامتی اور آزادی اظہار کے مسائل بھی موجود ہیں۔ ایسے حالات میں صحافتی ساکھ کو مزید نقصان پہنچانے والا ہر غیر ذمہ دارانہ طرز عمل پورے شعبے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ خبر اور پروپیگنڈے میں فرق باقی نہیں رہا تو وہ حقیقی صحافتی انکشافات پر بھی اعتماد کرنے سے گریز کرنے لگتے ہیں۔ اس کا نقصان کسی ایک صحافی یا ایک میڈیا ادارے کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو پہنچتا ہے۔ حکمرانوں کا احتساب ضروری ہے مگر احتساب کرنے والوں کا احتساب بھی اخلاقی معیار اور پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
محسن نقوی کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتے ہیں۔ اگر ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کی نشان دہی کیجیے۔ اگر ان کے کسی فیصلے سے عوام کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے تو اس کے شواہد سامنے لائیے۔ اگر ایف نائن پارک کے بارے میں ان کے اعلانات اور عملی اقدامات میں تضاد پایا جاتا ہے تو اس تضاد کو دستاویزات اور زمینی حقائق کی مدد سے ثابت کیجیے۔ لیکن اگر کوئی واضح بیان موجود ہے تو اسے نظر انداز کرکے محض شور و غوغا کو صحافت کا نام دینا کسی طور مناسب نہیں۔ ان کی کارکردگی پر تنقید کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان کے عہدے کو سوالات سے بالاتر سمجھنا چاہیے۔ البتہ سوالات کی بنیاد تحقیق ہونی چاہیے اور تنقید کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے۔
وقت آ گیا ہے کہ صحافت سے وابستہ تمام افراد اپنے طرز عمل کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ تجربے کے دعووں کو کردار کی سند نہ سمجھیں اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ قلم کی حرمت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب اس کی سیاہی میں سچائی شامل ہو۔ صحافی کا اصل وقار کسی حکومتی شخصیت کو نیچا دکھانے میں نہیں بلکہ اقتدار کے سامنے سچ کہنے اور عوام کے سامنے حقیقت رکھنے میں ہے۔ محسن نقوی ہوں یا کوئی دوسرا وزیر ان کی کارکردگی کا فیصلہ جذباتی نعروں کے بجائے شواہد سے ہونا چاہیے۔ اسی طرح کسی صحافی کے خلاف اعتراض ہو تو اس کا جواب بھی دلیل سے دیا جائے نہ کہ ذاتی حملوں سے۔
پاکستان اس وقت جن سیاسی اور معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے ان میں قومی اداروں اور ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں اختلاف ہو مگر تہذیب کے ساتھ جہاں سوال ہو مگر ثبوت کے ساتھ اور جہاں تنقید ہو مگر دیانت کے ساتھ۔ کردار کشی کی مہمات کو روکنے کا راستہ سنسرشپ یا تنقید پر پابندی نہیں بلکہ صحافتی اخلاقیات کی پاسداری اور حقائق کی غیر جانب دارانہ جانچ ہے۔ اگر ہم نے آج خبر اور الزام کے فرق کو فراموش کر دیا تو کل سچ کی آواز بھی شور میں دب جائے گی۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہر شخص اپنا قبلہ درست کرے کیونکہ صحافت کی ساکھ کسی ایک فرد کی جاگیر نہیں بلکہ پوری قوم کی امانت ہے۔ اس امانت میں خیانت کا خمیازہ کسی ایک وزیر یا صحافی کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔
محسن نقوی کے خلاف محاذ یا صحافت کا جنازہ؟



