ریاض،صنعا (نیشنل ٹائمز)یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری راس تنورہ اور دارالحکومت ریاض میں وزارت دفاع کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے ، حملوں کے دوران ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع کے مطابق ریاض میں وزارت دفاع پر بیلسٹک میزائل براہ راست لگا، جبکہ مشرقی صوبے میں راس تنورہ ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔دوسری جانب سعودی حکام نے بتایا کہ ریاض کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل تباہ کردئیے گئے ، جبکہ مشرقی صوبے کی طرف آنے والے تین میزائل بھی مار گرائے گئے ۔ دارالحکومت کے شہریوں کو موبائل فون پر حفاظتی پیغامات بھیجے گئے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔بحری سلامتی کے ادارے وینگارڈ کے مطابق راس تنورہ کے علاقے میں آگ لگنے کی اطلاع ملی، تاہم نقصان اور تیل کی ترسیل پر ممکنہ اثرات واضح نہیں ہوسکے ۔ ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار بیرل ہے ۔حوثیوں نے مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب میں نجران ایئرپورٹ اور خمیس مشیط شہر میں کنگ خالد ایئر بیس پر دو فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کو میزائلوں جبکہ ابہا ایئرپورٹ کو ڈرون سے نشانہ بنایا۔
میزائل حملوں اور طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ دوسری جانب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت منگل کو ریاض میں اجلاس ہوا، جس میں ایران کے ساتھ تہران میں ہونے والے مذاکرات کا جائزہ لیا گیا۔کابینہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک اور ایرانی اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت کے نکات پر غور کیا۔ اجلاس میں سعودی عرب نے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ یمن کے جنوب مغربی علاقوں میں حوثی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان تازہ جھڑپوں میں تقریباً 97 افراد جاں بحق ہوگئے ۔ دونوں جانب کے فوجی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 63 حوثی جنگجو اور حکومت کے حامی 34 اہلکار شامل ہیں۔ یمن کے حوثی رہنما محمد علی الحوثی نے سعودی عرب کے دفاع کیلئے فوجی مدد کی اجازت دینے کے مصری پارلیمان کے فیصلے کو یمن کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا ہے ۔ حوثی سیاسی بیورو کے رکن نے ٹیلی گرام پر بیان میں کہا کہ ایک طرف خطے میں امن کی باتیں کی جا رہی ہیں، دوسری جانب مصر سعودی عرب کی حمایت کر رہا ہے ۔ حوثی رہنما نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کو ایران کے خلاف جارحانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کسی اتحاد سے خوفزدہ نہیں۔



