نیو یارک(شِنہوا) 9 واں چائنہ ناؤ میوزک فیسٹیول نیویارک سٹی کے کارنیگی ہال میں شروع ہو گیا جس میں ایسی موسیقی پیش کی گئی جو امریکی اور چینی عوام کی مشترکہ یادوں، امنگوں اور دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔یہ فیسٹیول 2 سے 11 اکتوبر تک ’’خوابوں کا تعاقب‘‘ کے عنوان سے جاری رہے گا۔ اس کا مشترکہ انعقاد بارڈ کالج کنزرویٹری آف میوزک کے یو ایس-چائنہ میوزک انسٹی ٹیوٹ اور چین کی سنٹرل کنزرویٹری آف میوزک (سی سی او ایم) نے کیا ہے۔کنسرٹس اور ایک میوزک فورم کے سلسلے کے ذریعے اس تقریب میں ابتدائی چینی نژاد امریکی تارکین وطن کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا، جبکہ نئی نسل کی امنگوں اور جدوجہد کا بھی جائزہ لیا گیا۔افتتاحی کنسرٹ میں چینی موسیقار ہوانگ رو اور ٹونی ایوارڈ یافتہ لبریٹسٹ ڈیوڈ ہنری ہوانگ کا اوپیرا ’’دی رفٹ‘‘ پیش کیا گیا۔فن کا یہ شاہکار چینی نژاد امریکی معمار مایا لین (لین ینگ) کی کہانی بیان کرتا ہے جنہوں نے عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے منفرد فنکارانہ تصور کو عملی جامہ پہنایا۔ اس میں واشنگٹن ڈی سی میں ویتنام جنگ کے سابق فوجیوں کی یادگار کی تخلیق کا بھی ذکر ہے، جو امریکہ کی سب سے زیادہ معروف یادگاروں میں شامل ہو گئی۔کنسرٹ میں دی زی، ایرہو اور پیپا جیسے روایتی چینی سازوں کو مغربی سازوں کے ساتھ ملا کر پیش کئے جانے والے فن کے مظاہرے بھی شامل تھے۔ ثقافتوں اور موسیقی کی روایات کے اس ہم آہنگ امتزاج نے سامعین کو متاثر کیا۔10 اکتوبر کو بارڈ کالج اور 11 اکتوبر کو لنکن سنٹر میں ہونے والے فیسٹیول کے آخری 2 کنسرٹس میں سیمفونک اوراٹیریو ’’مین آف آئرن اینڈ دی گولڈن سپائیک‘‘ نیویارک کے سٹیج پر دوبارہ پیش کیا جائے گا۔ یہ فن پارہ پہلی بار 2019 کے چائنہ ناؤ میوزک فیسٹیول میں پیش کیا گیا تھا۔ اس میں ان ہزاروں چینی مزدوروں کی داستان بیان کی گئی ہے جنہوں نے 1860 کی دہائی میں امریکہ کی بین البراعظمی ریلوے کی تعمیر میں مدد کی۔
نیویارک میں 9 واں چائنہ ناؤ میوزک فیسٹیول شروع ہو گیا



