بیجنگ (شِنہوا) چین آئندہ پانچ سالوں کے دوران غلے کی پیداوار، خریداری، ذخیرہ اندوزی، پروسیسنگ اور فروخت کے باہمی تعاون کی صلاحیت بڑھا کر غذائی تحفظ مزید مستحکم کرنے کے لئے کوشاں ہے جس کا مقصد ملک میں غلے کی نقل و حمل کے لئے ایک زیادہ موثر اور جدید ترسیلی نظام تشکیل دینا ہے۔
قومی ادارہ خوراک و تزویراتی ذخائر کے سربراہ لیو ہوآن شن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملک غلے کی خریداری و فروخت آسان بنانے، منڈی کا استحکام برقرار رکھنے، غلے کے ذخائر مضبوط کرنے اور غلے کی صنعت کا معیار اور لچک بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرے گا۔
لیو نے بتایا کہ 15ویں پن سالہ منصوبے کے دورانیے (2026 تا 2030) میں چین کی غلے کی صنعت کی سالانہ پیداوار کی مالیت 45 کھرب یوآن (666.8ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کرنے کا امکان ہے کیونکہ ملک بہتر معیار، زیادہ غذائیت سے بھرپور اور صحت بخش خوراک کی بڑھتی مانگ بہتر طریقے سے پورا کرنے کا خواہاں ہے۔
چین غلے کی خریداری اور فروخت کے حوالے سے مزید کاروباری اداروں کو اس شعبے میں آنے کی ترغیب دے گا اور پالیسی کے تحت غلے کی خریداری و ذخیرہ کرنے کو منظم کرنے سمیت غلے کی تجارت کے پلیٹ فارمز کو بہتر بنائے گا اور غلے کی پیداوار و کھپت کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ غلہ مارکیٹ میں نظم و ضبط برقرار رکھے گا۔
ملک مارکیٹ کے ضابطے اور ہنگامی فراہمی کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کرنے کے لئے غلے کے ذخائر کے ڈھانچے اور علاقائی تقسیم کو مسلسل بہتر بنانا جاری رکھے گا جبکہ اعلیٰ معیار کا غلہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں بتدریج اضافہ کرے گا اور قابل استعمال پرانے گودام اپ گریڈ کرے گا۔
چین نے 2026 سے 2030 تک غلے کے ترسیلی نظام میں غذائی تحفظ مضبوط بنانے کے اقدامات شروع کر دیئے



