قادیانی مسئلہ قومی اسمبلی میں(تیسرا حصہ)

7 ستمبر 1974 کے تاریخی دن کے تناظر میں اس وقت کی قومی اسمبلی کی کارروائی کی لمحہ بہ لمحہ روداد

تحریر: عابد حسین قریشی

قادیانی مسئلہ اب پاکستان کی قومی اسمبلی میں سنجیدہ مرحلہ میں داخل ہو رہا ہے۔ پوری قومی اسمبلی ایک خصوصی کمیٹی کا روپ دھار چکی ہے۔ سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان بطور چیئرمین کمیٹی کرسی صدارت پر جلوہ افروز ہیں۔ قومی اسمبلی کے سبھی ممبران ہمہ تن گوش ہیں۔ اسمبلی کے اندر موجود علمائے کرام سوالات کی تیاری میں سرگرم عمل ہیں۔ ایک ایک سوال پر غور و فکر ہو رہا ہے۔ قرآن و سنت سے سوال، دیگر مذاہب کے تقابل سے سوال، احمدیوں کی اپنی کتابوں سے بہت سے سوال۔

سوالات کا ایک انبار ہے، اٹارنی جنرل پوری یکسوئی سے سوالات منتخب کر رہے ہیں، جو ممبران مذہبی بیک گراؤنڈ رکھتے وہ تو سرگرم ہیں ہی، مگر لبرل اور سیکولر ذہن کے ممبران بھی نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی للہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور عقیدت میں ختم نبوت سے وابستگی کا حق ادا کر رہے ہیں۔

اس قافلہ حریت کے سرخیل مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی ہیں۔ انکی پوری معاونت مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبدالحق، مولانا عبدالحکیم، مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری، پروفیسر غفور احمد، مولانا ظفر احمد انصاری، محمود اعظم فاروقی، چوہدری جہانگیر علی اور بہت سے دیگر فاضل ممبران اسمبلی پورے جذبہء ایمانی اور یکسوئی سے کر رہے ہیں۔

5 اگست کو احمدیوں کا تیسرا خلیفہ اور مرزا غلام احمد قادیانی کا پوتا، مرزا ناصر احمد جو خاصا تعلیم یافتہ ہے، وہ اپنے بیان اور جرح کے لئے پہلی مرتبہ پیش ہو رہا ہے۔ یہ جرح گیارہ روز تک جاری رہتی ہے۔ ضابطہ یہ طے ہوا ہے، کہ ممبران سوالات یحیی بختیار اٹارنی جنرل کے حوالہ کریں گے، اور اٹارنی جنرل مرزا ناصر احمد پر جرح کریں گے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل جناب یحیی بختیار ایک پروفیشنل وکیل بھی ہیں، اور وہ جانتے ہیں، کہ گواہ پر جرح کس طرح کرنی ہے۔ پوری قومی اسمبلی کے ممبران انکی اس اہلیت پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔

اسی پیشہ ورانہ دیانت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے، جرح شروع کرنے سے قبل اٹارنی جنرل صاحب، گواہ مرزا ناصر احمد پر کھلے طریقہ سے بلا ابہام یہ واضح کرتے ہیں۔

“”وہ گواہ سے سوال پوچھیں گے، اور اگر مرزا ناصر کسی سوال کا جواب نہ دے سکے یا نہ دینا چاہے، تو اسکی خوشی ہے، کہ میرے ہر سوال کے جواب دینے کی پابندی نہ ہے۔ البتہ اس جواب نہ دینے سے اگر کمیٹی کوئی نتیجہ نکالنا چاہے، تو وہ اسکی مجاز ہوگی۔””

کس قدر شفافیت اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے یہ جرح شروع کی جارہی ہے، متزکرہ بالا جملہ واشگاف انداز میں یہی بتا رہا ہے۔ مگر جرح کے دوران نہ صرف اٹارنی جنرل، چیئرمین بلکہ ساری کمیٹی کے ممبران نے بار بار محسوس کیا، کہ مرزا ناصر احمد یا تو حقائق چھپا رہا ہے،یا دانستہ طور پر ادھورا جواب دیتا ہے، یا حقائق کو مسخ کر رہا ہے، یا احمدیوں کی اپنی شائع شدہ کتابوں میں دیئے گئے مرزا غلام احمد اور مرزا بشیرالدین محمود اور مرزا بشیر احمد ایم اے۔ کے اقوال و بیانات کو تروڑ مروڑ رہا ہے۔

یہ شخص اس وقت احمدیوں کا تیسرا خلیفہ بھی تھا، اور اپنے آپ کو امیرالمومنین بھی کہلواتا تھا، مگر سچ سے واضح طور پر پہلو تہی کرتا نظر آرہا ہے۔ اکثر مواقع پر ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ کئی جگہ پر تو وہ اپنے والد اور احمدیوں کے خلیفہ دوئم مرزا بشیرالدین محمود کے اپنے اخبار الفضل اور دیگر کتابوں میں احمدیوں کے حق میں چھپنے والی خرافات سے بھی منکر ہو جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل ہر سوال کو قادیانی کتب اور دیگر حوالوں سے بڑا عام فہم بنا کر پیش کر رہے ہیں، مرزا ناصر احمد ہر سوال کے جواب میں شعوری الجھاؤ کی کوشش کرتا نظر آرہا ہے۔ مگر سچائی کیسے چھپ سکتی ہے۔

مرزا ناصر احمدیوں کی طرف سے خصوصاً پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفراللہ چوہدری کی طرف سے قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھنے کے کیا کیا بے تکےجواز پیش کر رہا ہے، کبھی شیعہ سنی مسلک کی آڑ میں اور کبھی کسی شرعی عذر کی بنا پر، خود اپنی کتابوں کے مندرجات سے مکر رہا ہے، من گھڑت تاویلیں پیش کر رہا ہے۔

سوال بڑا صاف اور سادہ ہے، کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی نے احمدیوں کو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکا ہے، جواب ہاں یا ناں میں آنا چاہیئے،مگر مرزا ناصر اگر مگر سے کام چلا رہا ہے۔

اٹارنی جنرل واضح طور پر مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب”” انوار خلافت” کے صفحہ نمبر 90 کا حوالہ دیکر پوچھ رہےہیں، کہ کہ وہ لکھتا ہے،”” کہ ہمارا یہ فرض ہے، کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں، اور انکے پیچھے نماز نہ پڑھیں، چونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالٰی کے ایک نبی کے منکر ہیں۔””

مرزا ناصر پہلے یہ بات تسلیم کر لیتا ہے، پھر اسکی تاویلیں پیش کرنا شروع کر دیتا ہے۔

ایک مرحلہ پر ممبران قومی اسمبلی عبدالعزیز بھٹی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا غلام غوث ہزاروی، احمد رضا قصوری اور کچھ دیگر ممبران مرزا ناصر احمد کی جواب دینے میں ٹال مٹول اور ہیرا پھیری کو نہ صرف محسوس کرتے ہیں، بلکہ ان میں اضطراب بھی بڑھ رہا ہے۔

یہ ممبران اسمبلی چیئرمین اور اٹارنی جنرل پر بھی واضح کرتے ہیں، کہ گواہ حقائق کو چھپا بھی رہا ہے، اور بہت سے سوالات کے واضح اور صاف جواب نہیں دے رہا ہے۔ مگر اٹارنی جنرل سمجھداری سے چل رہے ہیں، زیادہ تر سوال جواب انگریزی زبان میں ہو رہے ہیں۔

جس سوال کو مرزا ناصر ٹالنے کی کوشش کرتا ہے، چند سوالات کے بعد اٹارنی جنرل وہی سوال دوبارہ پوچھ کر کچھ نہ کچھ مرزا ناصر احمد سے سچ اگلوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے کی کتاب کلمتہ الفصل میں اتنا قابل اعتراض مواد موجود ہے ،کہ وہی کافی ہے، اصل حقائق سامنے لانے کے لئے۔ گواہ کبھی کتاب کے content کو دیکھنا چاہتا ہے، اور کبھی گول مول جواب دیتا ہے۔

چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی خاں کا حوصلہ، بردباری اور تحمل دیدنی ہے۔ وہ وقفہ میں ممبران کے سخت جملوں کو خندہ پیشانی سے سن رہے ہیں، اور انہیں سمجھا رہے ہیں، کہ اٹارنی جنرل اپنا کام بخوبی کر رہے ہیں، مگر ممبران کا استدلال یہ ہے، کہ گواہ بالکل سیدھے سوال کا جواب ہاں یا ناں میں دینے کی بجائے ہر سوال پر مختلف تاویلیں پیش کرکے اسمبلی کا قیمتی وقت ضائع کر رہا ہے۔

اٹارنی جنرل بڑے حوصلہ اور لگن سے اپنی جرح جاری رکھے ہوئے ہیں۔



  تازہ ترین   
پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
وزیراعظم کا ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا نوٹس
سہیل چوہدری کو نیا آئی جی اسلام آباد تعینات کر دیا گیا
سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار
ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی سعودی درخواست مسترد کر دی: امریکی میڈیا
سکیورٹی فورسز کا کرم میں کامیاب آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک
واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے ہیں، باقر قالیباف
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بے قابو، مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر