میرا تعلق پاکستان کے ایک ایسے خطے سے ہے جہاں مزاحمت کوئی نعرہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک اسلوب ہے جہاں میرے اباواجداد نے ہمیشہ ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا جہاں کسی کی غلط بات کو محض اس لیے تسلیم نہیں کیا گیا کہ وہ طاقتور ہے اور نہ کسی پر ظلم و زیادتی کو اپنا حق سمجھا گیا مگر جب کسی نے ہمارے ساتھ ظلم کرنے کی کوشش کی تو پھر خاموشی کو بزدلی سمجھا گیا اور مزاحمت کو اپنا فرض جانا گیا یہی وہ سبق تھا جو مجھے اپنے اباواجداد سے ورثے میں ملا اور شاید اسی لیے مزاحمت میرے لیے محض ایک لفظ نہیں بلکہ میرے خون میں رچی بسی ایک کیفیت ہے
جب عملی زندگی میں قدم رکھا اور صحافت کو اپنا میدان بنایا تو یہاں بھی مجھے مزاحمت کی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ میں نے دیکھا کہ صحافت جیسے مقدس پیشے میں ایسے لوگ داخل ہو چکے ہیں جن کا صحافت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا مگر انہوں نے صحافیوں کے نام پر اپنی دکانیں سجا رکھی تھیں حکومتوں کے درباروں میں حاضریاں لگائی جا رہی تھیں صحافیوں کے خون کا سودا کیا جا رہا تھا اور صحافیوں کے حقوق کے نام پر اپنی جیبیں بھری جا رہی تھیں یہ لوگ صرف معاشی اعتبار سے غریب نہیں تھے بلکہ فکری اور اخلاقی اعتبار سے بھی دیوالیہ ہو چکے تھے انہوں نے صحافت کو خدمت کے بجائے کاروبار بنا دیا اور قلم کو ضمیر کے بجائے مفاد کا ذریعہ بنا لیا
نتیجہ ہمارے سامنے ہے آج پاکستان کی صحافت جس زوال کا شکار ہے اس کی ذمہ داری صرف حکومتوں پر نہیں ڈالی جا سکتی اس زوال میں وہ نام نہاد صحافتی قیادت بھی برابر کی شریک ہے جس نے صحافیوں کے مسائل کو اپنی ذاتی جاگیرداری بنا لیا پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا یا ابھرنے والا ڈیجیٹل میڈیا ہر جگہ کہیں نہ کہیں مفاد پرستی کا سایہ دکھائی دیتا ہے ڈیجیٹل صحافت ابھی پوری طرح اپنے قدم بھی نہیں جما سکی مگر اس کے زوال کے آثار بھی ان عناصر کی وجہ سے دکھائی دینے لگے ہیں جنہوں نے ہر نئے میدان کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی روایت بنا رکھی ہے
صحافی دراصل معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے وہ معاشرے کی خرابیوں کو صرف دکھاتا نہیں بلکہ ان کے خاتمے کے لیے بھی کردار ادا کرتا ہے صحافی کا قلم طاقتور کے سامنے سوال اٹھاتا ہے مظلوم کی آواز بنتا ہے اور ان لوگوں کے چہرے بے نقاب کرتا ہے جو اختیار کو اپنی جاگیر سمجھ بیٹھتے ہیں مگر جب صحافت ہی ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جائے جو قلم کی حرمت سے زیادہ اپنے مفاد کو عزیز رکھتے ہوں تو پھر معاشرہ آئینہ نہیں بلکہ دھندلا شیشہ بن جاتا ہے جس میں حقیقت دکھائی نہیں دیتی صرف مفادات کے چہرے نظر آتے ہیں
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم پر جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے مجھے متعدد ممالک کے دورے کرنے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی صحافت کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے دنیا بھر کے صحافتی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا اور یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ عالمی صحافتی برادری نے پاکستان میں فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی نمائندگی کو تسلیم کیا بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا اور پاکستانی صحافیوں کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا میرے لیے ہمیشہ ایک اعزاز بھی رہا ہے اور ذمہ داری بھی
آج صحافت کے اندر بے شمار گروہ موجود ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بہت سے گروہوں کا بنیادی مقصد صحافیوں کے اجتماعی مفاد کے بجائے چند افراد کے ذاتی مفادات کا تحفظ بن چکا ہے صحافیوں کے نام پر سیاست ہوتی ہے صحافیوں کے نام پر سودے ہوتے ہیں اور صحافیوں کے نام پر ایسی طاقت حاصل کی جاتی ہے جس کا فائدہ عام صحافی تک پہنچنے کے بجائے چند مخصوص لوگوں کی زندگی بدل دیتا ہے
اسلام آباد کے صحافیوں کے لیے رہائشی پلاٹوں کا معاملہ بھی اسی تلخ حقیقت کی ایک مثال ہے حکومت پاکستان اور وزارت اطلاعات کی جانب سے صحافیوں کے لیے سرکاری نرخوں پر رہائشی پلاٹوں کا ایک کوٹہ موجود ہے تاکہ برسوں سے صحافت کرنے والے ان لوگوں کو بھی زندگی میں ایک چھت کا سہارا مل سکے جو اپنی پوری جوانی قلم اور کیمرے کے ساتھ معاشرے کی خدمت کرتے رہے ہیں مگر پندرہ سال سے زائد عرصہ گزر گیا اسلام آباد کے صحافی اپنے اس بنیادی حق کے حصول کے لیے وزارت اطلاعات اور ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے دروازوں پر دستک دیتے رہے مگر یہ معاملہ ایک مخصوص صحافتی گروہ کی ضد اور انا کی نذر ہوتا رہا
اصل مسئلہ یہ تھا کہ ایسے نام شامل کرانے کی کوشش کی جاتی رہی جن کا صحافت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا یا ایسے افراد کے نام شامل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی جو ماضی میں مختلف حکومتوں سے متعدد مرتبہ پلاٹ حاصل کر چکے تھے اور جن کے معاملات ریکارڈ کا حصہ تھے مگر افسوس کہ اس سب کے باوجود بعض نام نہاد صحافتی رہنما اپنے چہیتوں کے لیے راستہ بنانے میں مصروف رہے
اس دوران کتنے ہی سینئر صحافی بے روزگاری کے ہاتھوں پریشان ہوئے کتنے بیماری کے باعث بستروں تک محدود ہوگئے اور کتنے ہی اپنے اس حق کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے مگر ان کی حالت نے ان نام نہاد رہنماؤں کے ضمیر کو نہیں جھنجھوڑا کیونکہ ان کے سامنے صحافی نہیں بلکہ اپنے مفادات تھے انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ایک غریب صحافی اپنے خاندان کے ساتھ کس طرح زندگی گزار رہا ہے انہیں صرف اپنے چہیتوں کے نام فہرست میں شامل کرانے کی فکر تھی
وزارت اطلاعات اور ہاؤسنگ فاؤنڈیشن پر دباؤ ڈالنے کے لیے احتجاج دھرنے پارلیمنٹ ہاؤس کے بائیکاٹ اور مختلف قسم کی دھمکیوں کا سہارا لیا گیا مگر ہم نے اس مقصد کے لیے ہونے والی اس بلیک میلنگ کو کامیاب نہیں ہونے دیا کیونکہ ہمارا مؤقف واضح تھا کہ صحافیوں کا حق کسی فرد کی جاگیر نہیں اور نہ ہی کسی صحافتی تنظیم کو یہ اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ میرٹ کو اپنے مفاد کے تابع کردے
آج اللہ کا شکر ہے کہ اسلام آباد پریس کلب میں ہمارا گروپ برسر اقتدار ہے اور موجودہ حکومت نے وزارت اطلاعات کے تحت جو کمیٹی قائم کی ہے اس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے مجھے بھی رکن کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے کمیٹی کی کارروائی کے حوالے سے بعض امور ایسے ہیں جنہیں اپنی ذمہ داری کے باعث میں اس وقت منظر عام پر نہیں لا سکتا مگر اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ معاملات جس سمت میں جا رہے ہیں وہ ان صحافیوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہیں جو برسوں سے اپنے حق کے انتظار میں بیٹھے ہیں
میں اپنے ان تمام صحافی ساتھیوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں جن کا حق برسوں سے رکا ہوا ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ اب زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا چند مہینوں کی بات نہیں بلکہ چند ہفتوں میں آپ کو ایک ایسی خوشخبری سنانے کی کوشش ہے جس کا انتظار بہت سے صحافی برسوں سے کر رہے ہیں ہمارا مقصد کسی کو محروم کرنا نہیں بلکہ حق دار کو اس کا حق دلانا ہے اور میرٹ کو ہر ذاتی تعلق اور مفاد سے بالاتر رکھنا ہے
خصوصی طور پر ان صحافیوں کے خاندانوں کے لیے بھی ہماری کوشش ہے جو اس حق کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہو گئے ان کے بیواؤں اور اہل خانہ کو بھی ترجیحی بنیادوں پر ان کے حق سے محروم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایک صحافی کے انتقال کے ساتھ اس کا حق ختم نہیں ہو جاتا اس کے خاندان کی امیدیں اور اس کی قربانیوں کی ذمہ داری معاشرے اور صحافتی قیادت پر باقی رہتی ہے
میری اپنے تمام صحافی دوستوں سے صرف اتنی گزارش ہے کہ صحافت کو دوبارہ اس مقام پر لے کر آئیں جہاں قلم کی قیمت ضمیر سے زیادہ نہ ہو جہاں خبر کی قیمت سچ سے زیادہ نہ ہو اور جہاں صحافی کی پہچان اس کی جرات ہو نہ کہ اس کے تعلقات صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اپنے قلم کا احترام کیجیے اپنے الفاظ کا احترام کیجیے اور بلیک میلنگ کو صحافت سمجھنے والے نام نہاد رہنماؤں سے نجات حاصل کیجیے
اور اگر کوئی صحافتی تنظیم واقعی صحافیوں کے حقوق کے لیے کھڑی ہے تو چاہے وہ ہماری مخالف ہی کیوں نہ ہو ہمیں اس کے اچھے کام کو تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ صحافت کسی ایک گروہ کی جاگیر نہیں صحافت پورے معاشرے کی امانت ہے اور صحافیوں کے حقوق کی جنگ کسی فرد کی نہیں بلکہ پوری صحافتی برادری کی جنگ ہے
یہ میرے مستقل کالم مزاحمت کا پہلا قطرہ ہے اسے آغاز سمجھ لیجیے اختتام نہیں کیونکہ میرے اباواجداد نے مجھے سکھایا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے اور میں نے اپنی عملی زندگی میں بھی یہی راستہ اختیار کیا ہے قلم ہاتھ میں ہے تو مزاحمت جاری رہے گی سوال زندہ رہیں گے اور حق کی آواز بھی زندہ رہے گی
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے بادل ابھی بہت کچھ برسانے والا ہے۔
ای میل: shakeeldm@yahoo.com



